’’لوگ کہتے تھے تم صرف باورچی اور ڈرائیور بن سکتے ہو‘‘ مگر آج میں 300 ارب روپے کی کمپنی کا مالک ہوں،سعودی عرب پہنچنے والے کسان کے بیٹے کی ترق�

پاکستان اور بھارت سے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں میں واضح اکثریت مزدور طبقے کی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ باہر جا کر صرف باورچی بن سکتے ہیں یا ڈرائیور۔ لیکن سعودی عرب جانے والے ایک کسان کے بیٹے نے اپنی محنت کے بل پر ایسی بے مثال ترقی کی ہے

اس کی کامیابی کی کہانی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بن سکتی ہے۔ ویب سائٹ kenfolios.comکی رپورٹ کے مطابق اس بھارتی شخص کا نامی روی پیلائی ہے جسے اب ’گلف کا امبانی‘کہا جاتا ہے۔روی بھارتی ریاست کیرالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے کسان کے ہاں پیدا ہوا اور انتہائی غربت میں پرورش پائی۔ وہ نوکری بھی کرتارہا اور ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتا رہا۔ اس نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور کچھ عرصہ کیرالہ میں ہی نوکری کی اور 1978ءمیں وہ سعودی عرب منتقل ہو گیا۔ وہ سعودی عرب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا لیکن بھارت میں نوکری کے دوران اس نے کنسٹرکشن کے شعبے میں جو تجربہ حاصل کیا تھا اسے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جمع پونجی سے ایک کمپنی بنا لی۔

اگرچہ اس کی رقم ضائع ہونے کا خدشہ بہت زیادہ تھا لیکن اس نے پھر بھی یہ خطرہ مول لیا۔ وہ پہلے دو سال تک مختلف اشیاءکی تجارت بھی کرتا رہا اور کمپنی سے حاصل ہونے والا منافع واپس اسی میں لگاتا رہا۔ اس نے ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے محنت جاری رکھی۔ بالآخر اس کی محنت رنگ لائی اور اس کی کمپنی چل نکلی۔ آج اس کے ملازمین کی تعداد 60ہزار سے زائد ہے اور کمپنی کے اثاثوں کی مالیت 300ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں