40 کلومیٹر روزانہ پیدل چلنے سے 1600 کروڑ روپے کا سفر

انسانی زندگی عمل ، جدوجہد اور کو شش سے عبارت ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اسے سرگرداں رکھتی ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کی خواہش ہی زندگی میں حرکت اور حرارت پیدا کرتی ہےجو بھرپور زندگی کی دلیل بنتی ہے۔ جو زندہ ہے خواہ وہ انسان ہو یا حیوان وہ حرکت میں ہے اور حرکت میں ہی برکت ہے۔

قوم ہو یا فرد ہر ایک اپنے مقاصد ، منصوبوں ، ارادوں اور دعاوں کو پورا ہوتا دیکھنا چاہتا ہے لیکن بن محنت ناداری کےسوا کچھ حاصل نہیں ہو تا ۔ جو اقوام یا افراد محنت کو شعار بنا لیں وہی سرخرو ہو تے ہیں۔ بلا شبہ اسلام کا ضابطہ حیات بھی اسی بات کا اعلان کرتا ہے۔ ّسراپا قرآن حضورﷺ کی تمام تر زندگی سراپا جدو جہد تھی ۔ محبوب ربانیﷺ نےبھی محنت میں کبھی عار نہ سمجھا ۔ اپنے جوتے خود مرمت کرتے، گھریلو کام کاج میں اہلِ خانہ ہاتھ بٹاتے۔ مسجدِنبویّ کی تعمیر کا موقع ہو یا ضندق کھودنے کا ، تمام صحابہ کرامکے شانہ بشانہ کام کرتے نظر آتے۔ اپنے صحابہ کرامؓ کو بھی یہی درس دیا کہ خود کما کر کھانا ، بھیک مانگنے سے بہتر ہے ۔ اﷲکے تمام انبیاء کرام محنت کر کے رزقِ حلال کماتے۔ حضرت آدمؑ کھیتی باڑی کرتے، حضرت نوح ؑ اور حضرت زکریا ؑ لکڑی کا کام کرتے، حضرت داؤد ؑ لو ہے کا کا م کرتے، حضرت ادریسؑ سلائی کا کام کرتے تھے گو یا سب انبیا اس حدیث کی عملی تفسیر تھے کہ’’ الکاسب حبیب اﷲ‘‘یعنی: محنت کرنے والا اﷲ کا دوست ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت کے ہاں محنت کرنے والے کو صرف ’’محنتی‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے یعنی اس کا دین، ایمان، عقیدہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، اگر محنت کرنے والا کوئی کافر بھی ہو تو اللہ کی جانب سے اسے اس کی محنت کا صلہ دیا جاتا ہے۔اگر مشاہیر عالم کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو جو بات ان میں مشترک نظر آتی ہے وہ محنت ہی ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ معمولیگھرانوں میں جنم لینے افراد فخر ِجہاں بن گئے۔روس کا صدر سٹالن ایک موچی کا بیٹا تھا، جارج واشنگٹن کسان کا بیٹا اور کولمبس ایک جولاہے کا بیٹا تھا۔ آئن سٹائن ایک معمولی کلرک تھا، محمود غزنوی سترہ حملے کر کے فتح یاب ہوا۔ ہمارے قومی راہنما قائدِاعظم ہوں یا علامہ اقبال ، ڈاکٹر قدیر خان ہو ں یا ثمر مبارک سب کی کامیابی کا راز محنت میں مضمر ہے۔ مشہور سائنسدان ایڈیسن کا کہنا ہے:کامیابی کے لیے ذہانت صرف ایک فیصد اورمحنت ننانوے فیصد ہو تی ہے،ہماری عام زندگی میں بھی کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو محنت سے جی نہیں چراتا ۔ایسی ہی ایک مثال بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے’’سدیپ دتا‘‘کی ہے جو صرف 16 برس کی عمر میں دنیا کے مسائل کا شکار ہو گیا تھا

اور بعد میں کامیابی کی منازل طے کرتا ہوا 1600 کروڑ روپے پر مشتمل ایک بڑی بزنس ایمپائر کا مالک بنا۔ سدیپ مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے قصبے’’درگاپور‘‘ کا رہنے والا تھا۔ اس کا باپ ایک فوجی تھا جو 1971 کی جنگ میںمارا گیا تھا ، والد کے علاوہ سدیپ کا ایک بڑا بھائی بھی تھا جو اکثر بیمار رہتا تھا اور علاج کیلئے پیسے نہ ہونے کے باعث عدم علاج کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا گیا۔بڑے بھائی اور والد کے علاوہ سدیپ کی والدہ ہی اس کا آخری سہارا بچی تھی ، والدہ کی ذمہ داری بھی سدیپ کے کندھوں پر آ پڑی تھی۔ سندیپ دتہ 16 سال کی عمر میں ریلوے سٹیشن پر سویاکرتا تھا کیونکہ اس کے پاس رہنے کیلئے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اپنے دگرگوں حالات اور قسمت کی ستم ظریفی کو کوسنے والا سدیپ اکثر اپنے دوستوں سے سنا کرتا تھا کہ اگر کوئی اس کی قسمت تبدیل کر سکتا ہے تو وہ ممبئی شہر ہےمگر سدیپ کے پاس کہیں آنے جانے تو کیا کھانے کیلئے ایک پیسہ بھی نہیں ہوتا تھا ۔ مئی 1989 میں دادڑ، ممبئی کے ریلوے سٹیشن میں سونے والے اس 16 سالہ لڑکے پاس ایک گلابی مستقبل کےسوا کچھ بھی نہیں تھا۔’’ممبئی شہر قسمت بدلتا ہے‘‘ اس کے دوستوں کی یہ بات اس وقت سچ ثابت ہوئی جب اسے 15 روپے روزانہ کی اجرت پر ایک نوکری ملی اور ساتھ ہی رہنے کیلئے ایک کمرہ جس میں پہلے سے 20 لوگ رہائش پذیر تھے۔

کمرہ 20 لوگوں کے مقابلے میں اتنا چھوٹا تھا کے اس میں سوتے وقت ہلنے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی تھی۔ سدیپ 15 روپے اجرت کی خاطر خوشی خوشی روزانہ 40 کلومیٹر دور ’’میراروڈ‘‘ پر واقع فیکٹری میں پیدل چل کر مزدوری کرنے جایا کرتا تھااور پھر رات گئے بھی پیدل واپس آتا تھاکیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ سفری اخراجات کے یہ چند روپے بچا کر اپنی والدہ کو بھیج سکتا ہے۔ سدیپ جس فیکٹری میں کام کرتا تھا وہ فیکٹری 2 سال بعد شدید خسارے کا شکار ہو گئی اور اس کے مالکان نے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مذکورہ کمپنی کی بندش سدیپ کی زندگی کے روخ کو تبدیل کرنے کا باعث بنگئی۔ سدیپ نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف کرتے ہوئےخسارے کے باعث بند اس چھوٹی فیکٹری کوخریدنے کا جراتمندانہ فیصلہ کیا۔ سدیپ آگے بڑھتا گیا اور کافی عرصہ پیسے بچاتا رہا جس کے بعد اس نے اپنے دوستوں سے بھی خطیر(اس وقت کے مطابق) رقم قرض کے طور پر لی اور 16000 روپے کے عوض خسارہ زدہ وہ فیکٹری خرید لی۔

اب اس19 سالہ سدیپ نے اس نے اپنی کمپنی میں کام کرنے والوں کے ساتخاندانوں کو چلانے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو خود اپنا پیٹ صحیح طرح پالنے سے قاصر تھا۔ اس یونٹ کے لئے 16000 روپے کی رقم بہت کم تھی لیکن اس نے مالکان کو یقین کیا کہ وہ آنے والے دو سالوں کے لئے اس یونٹ کے منافع کو آپس میں بانٹ لیں گے۔مالکان نے سدیپ کی بات سے اتفاق کیا اوریوں وہ اس یونٹ کا مالک بن گیا جہاں کل تک وہ مزدور تھا۔وہ دور ایلومینیم پیکیجنگ انڈسٹری کے لئے ایک خطرناک وقت تھا۔صرف چند بڑے کارپوریشنز جیسے جاندل ایلومینیم اپنی مضبوط مالیاتی طاقت کی مدد سے منافع میں جا رہے تھے۔سدیپ نے مارکیٹ کی ضروریات اور بڑھتی ہوئی جدت کو محسوس کیا اور مصنوعات کی ایسی اقسام مارکیٹ میں متعارف کروا دیں جو دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر تھیں تا ہم جندال کارپوریشنز جیسے بڑے اداروں کے سامنے مارکیٹ میں آنا آسان کام نہیں تھا۔ اپنی مصنوعات کے بل بوتے پر سندیپ نے بڑیکمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور اپنےسے چھوٹے صنعتی اداروں کےساتھ بھی کاروبار شروع کر دیا۔ سدیپ بڑے کاروباری اداروں کے سربراہان سے ملنے کیلئے گھنٹوں انتظار کرتا رہتا تھ

ایکن اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ اس کی محنت اور قائل کرنے کی مہارت سے جلد ہی وہ ایف ایم سی جی اور سورما فارما، سیپلا، نیسلے اور دیگر جیسے فارما اداروں سے چھوٹے آرڈرز حاصل کرنا شروع کر دیئے۔ سدیپ کامیابی کا ذائقہ چکھ چکاتھا تاہم اپنے سامنے آنے والے بڑے چیلنجز سے ابھی واقف نہیں تھا۔ اس نے مصنوعات کی نئی اقسام کا ایک نیا حدود اربعہ قائم کیا جو دیگر کمپنیوں کے تعصب کا نشانہ بنا۔ دوسری جانب ایک بزنس ٹائکون کے تعاون سے ایک کاروباری گروپ نے انیل اگروال سے بھارت Foils خریدی تھی جو ایک خسارہ دینے والی کمپنی تھی اور صرف پیکیجنگ کے علاقے میں کاروبار کرنے کے لئے تھی۔ اگروال اور اس کے وینڈا گروپ دنیا کی سب سےبڑی کمپنیوں میں سے ایک تھے۔ایسے حالات میں سدیپ کیلئے کاروباری میدان میں رہنا مشکل بلکہ نا ممکن لگتا تھا۔صنعتکاری میں میں وشال وڈنتا کی موجودگی سے بے نیاز سدیپ نے اپنی تحقیق اور ترقی کو اپنی مصنوعات کی رینج کو بہتر بنانے اور اپنے گاہکوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھنے کیلئے جاری رکھا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ مارکیٹ میں سدیپ کا مقابلہ کرنے والے وڈنٹا نے سدیپ کےسامنے ہتھیار ڈال دیئے اورسدیپکو پیشکش کی کہ وہ دنیا بھر میں اس کی’’بھارت فوائلز‘‘ کی فروخت کرے، اس معاہدے نے مذکورہ صنعت سے وڈنٹا گروپ کے مستقل خاتمے پر مہر ثبت کر دی۔ اس کے بعد سدیپ دتا نے بڑی دوا ساز کمپنیوں کو ٹارگٹ کیا اور انہیں پیکیجنگ کا سامان فراہم کرنے لگا۔ ساتھ ساتھ سدیپ نے ایک اور خسارے کا شکار ’’ایلومینیم پیپر‘‘ بنانے والی فیکٹری میں بھی سرمایہ کاری کر دی اور کامیابی کی منازل طے کرتے ہوئے اسنے دوبارہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بعد ازاں وہ انڈین ایلومینیم کمپنی کا ڈسٹری بیوٹر بن گیا اور 1998 سے 2000 تک صرف دو سالوں میں اس نے 20 نئے صنعتی یونٹ (فیکٹریاں) قائم کر دیں۔ اس کے بعد سدیپ کی کمپنی نے بڑی چھلانگ لگائی اور مارکیٹ میں اپنی ایک خاص شناخت بنا لی۔سدیپ کی کمپنی آج بمبئی اور نیشنل سٹاک ایکسچینج کے ساتھ منسلک ہےاور یہ بھارت میں بنیادی پیکیجنگ مواد کا ایک معروف سپلائر ہے۔سیپللا، نیسلے اور سورج فارما جیسےانتہائی بڑے ناماب سدیپ کی کمپنی کے گاہکوں میں شمار ہوتے ہیں ، آج سدیپ کی کمپنی کا مالیاتی حجم 1600 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ سدیپ اور ان کی فیملی آج کل اندھیری کے پوش علاقے میں رہتے ہیں

جہاں کئی معروف اداکاربھی رہائش پذیر ہیں۔ آج وہ شخص جو کبھی 40 کلومیٹر روزانہ پیدل چلتا تھا وہ دنیا کی قیمتی ترین گاڑیوں کا مالک ہے۔ تاہم سدیپ نے آج تک اپنی عاجزی اور پرانیطبیعت سے روگردانی نہیں کی۔اس کی فیکٹری میں کام کرنے والے تمام مزدور اس سے محبت کرتے ہیں اور اسے ’’بڑے بھائی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ سدیپ کا کہنا ہے کہ جدو جہد انسان کو بہت سارے اسباق سکھاتی ہے اور شخص کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آتا ہے جب اس کی معاشرے میں واپسی ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں