شاہ عبدالعزیز رحمۃ االہ علیہ کی حاضر جوابی:

شاہ ولی اللہ کے بیٹوں میں ایک بیٹے شاہ رفیع الدینؒ نے قرآن پاک کو ترجمہ اردو میں کیا اور دوسرے بیٹے شاہ عبدالقادرؒ نے قرآن پاک کا با محاورہ اردو ترجمہ کیا۔تیسرے اور بڑے بیٹے شاہ عبدالعزیز ؒ ہیں جو ۱۱۵۹؁ھ میں پیدا ہوئے،علم وفضل اور تقدس میں باپ کے ہم مرتبہ تھے،اور ذہانت و طباعی میں جواب نہ رکھتے تھے۔ان کی حاضر جوابی دلی میں ابھی تک نقل ہوتی چلی آئی ہے میں ان میں سے چند کو یہاں پیش کرتا ہوںجن کو علمی اور دینی لطیفے بھی کہا جا سکتا ہے۔مسٹر مٹکف نامی

کوئی انگریز حضرت شاہ صاحب ؒ کے زمانہ میں کسی بڑے عہدے پر فائز تھا ،اس کے یہاں ایک پادری آکر ٹھہرا ،مسٹرمٹکف نے پادری سے کہا شاہ صاحب ؒ کو ہراؤ ت جانیں۔اگر ہرا دو تو تمہیں دوہزار روپیہ دوں گا ورنہ دو ہزار روپیہ مجھے دینا پادری راضی ہوگیا ،اور شاہ صاحب کے یہاں پہنچا ،شاہ صاحب نے کہا فرمائے جو فرمانا ہے؟پادری نے کہا میں اپنی بات کا معقول جواب چاہتا ہوں،منقولی اور کتابی نہیں چاہتا،شاہ صاحب نے کہا منظور ہے، کسی کتاب کا نام نہیں لوں گا ،پادری نے پوچھا:یہ کیا ماجرہ ہے،آپ کے پیغمبر اللہ کے محبوب ہیں اور امام حسینؓ ان کے نواسے،جنہیں وہ بہت چاہتے تھے،پھر اللہ نے یہ کیسے گوارہ کرلیاکہ محبوب کا محبوب شہید کردیا گیا،نہ اللہ نے خود پرواہ کی اور نہ اللہ کے محبوب ﷺ نے توجہ دلائیشاہ صاھب نے فرمایا

:ہمارے پیغمبر ﷺ نے توجہ دلائی تھی،لیکن اللہ نے جواب دیا میاں تمہیں اپنے نواسے کی پڑی ہے یہاں کمبختوں نے میرے بیٹے ( عیسیٰ علیہ السلام) کو سولی پر چڑھادیاہے یہ بات عیسائیوں کے نظریئے کے مطابق کہی انہوں نے .. مسلمانوں یہ نظریہ نہیں اس می آپ لوگ کنفیوز نہ ہوجانا . مطلب تم لوگوں نے عیسی علیہ سلام کو شہید کیا یا قتل کیا جس کو تم اللہ کا بیٹا مانتے ہوں تو اگر اللہ کے محبوب شہید ہوے تو کیا ہوا..ایک شخص نے ایک مسئلہ دریافت کیا :حضور یہ پیشہ ور طوائفیں مریں تو ان کی نماز جنازہ پڑھنی چاہئے یا نہیں؟ شاہ صاحب نے فرمایا :ان کے یہاں جانے والے اور ان سے ناجائز تعلق رکھنے والےمردوں کی نماز جنازہ پڑھتے ہو؟ سائل نے کہا ،ان کی تو پڑھتے ہیں ! شاہ صاحب نے فرمایا : تو ان طوائفوں نے ان سے بڑھ کر کون سا قصور کیا

کہ انہیں نماز جنازہ سے محروم رکھا جائے۔دہلی کا ریزیڈنٹ شاہ صاحب سے ملنے آیا اور باتوں باتوں میں کہنے لگا،جناب میں نے ایک سوال کئی عالموں سے کیا،کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا،آپ بھی غور کیجئے، سوال یہ ہےکہ ایک مسافر راستہ بھول گیا،اس نے دیکھا کہ ایک شخص سامنے پڑا سو رہا ہےاور ایک شخص اس کے برابر بیٹھا ہے۔اب مسافر جاگتے سے راستہ معلوم کرے یا سوتے سے؟شاہ صاحب سوال کی تہ تک پہونچ گئے ،سوتے سے مراد حضرت محمد ﷺ تھےاور جاگتے سے مراد حضرت عیسی السلام ،شاہ صاحب نے فوراً جواب دیا وہ جاگنے والا خود اس انتظار میں بیٹھا ہے کہ سونے والا اٹھے تو اس سے راستہ معلوم کرے، مسافر کو چاہئے کہ وہ بھی سونے والے کا اٹھنے کا انتظار کرے۔ ایک شخص نے عرض کیا

’’ محفل رقص و سرود میں انسان رات بھر جا گتا رہتا ہے ،لیکن عبادت میں اس کو نیند آنے لگتی ہے،اس کی کیا وجہ ہے؟شاہ صاھب نے فرمایا دو پلنگ ہوں ایک پلنگ پر پھول بچھا دئے جائیں اور دوسرے پر کانٹے ،تو نیند کس پر آئے گی ،اس نے کہا پھول والے پرپلنگ پر ،فرمایا بس رقص وسرود کی محفل کی مثل کانٹوں والے پلنگ کی ہے اور اللہ کے عبادت والے کی مثال پھول والے پلنگ کی ہے۔ ایک سودا گر کو اپنی بیوی سے بہت محبت تھی لیکن بیوی کےباپ سے وہ کچھ نا خوش تھا ،وہ سوداگری کے لیے سفر پر جانے لگاتو بیوی کو تاکید کردی کہ اگر باپ کے گھر گئی تو تجھ کو طلاق،اتفاق کی بات اسی اثناء میں بیوی کے والد کا انتقال ہوگیا،سودا گر کی بیوی کیا کرتی اس سے رہا نہ گیا اور اور وہ باپ کے گھر جا پہنچی،سودا گر آیا تو پریشان ہوا کہ بیوی خواہ مخواہ ہاتھ سے چل دی۔جس عالم سے بھی فتویٰ معلوم کرتا سب یہی کہتے طلاق ہوگئی ۔شاہ صاحب کے سامنے بھی یہ مسئلہ آیا توپ نے برجستہ فرمایا طلاق نہیں ہوئی

اس لیے کہ باپ کے مرنے کے بعد وہ گھر باپ کا کہاں رہا وہ تو اس کا ہی گھر ہوگیا ،سوداگر کی بیوی اپنے باپ کے گھر نہیں گئی بلکہ اپنے گھر گئی،پھر طلاق کیسی؟ (۶)ایک انگریز نے شاہ صاحب سے سوال کیا کہ’’ ہماری قوم کے سینکٹروں آدمی ایک جگہ جمع ہوجائیں تو ایک رنگ اور ایک روپ کے نظر آئیں گے لیکن آپ کی قوم میں کوئی کالا کوئی گورا کوئی ساؤنولا ایسا کیوں ‘‘شاہ صاحب نے فرمایا :’’گدھے سب یکساں ہوتے ہیں اور گھوڑے مختلف ہوتے ہیں کوئی سبزہ کوئی نقرہ،کوئی سرمائی۔۔۔۔۔!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں