اسلام میں دل کے امراض سے دور رہنے کا طریقہ :سائنس بھی مان گئی

ہمارا مذہب اسلام ایک دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کا درس دیتا ہے، اب یہ بات سائنس نے بھی تسلیم کرلی ہے۔سائنسدان بھی مان گئے ہیں کہ اگر ایک دوسرے سے اخلاق سے پیش آیا جائے تو انسان دل کے امراض سے دور اور تندرست رہتا ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ایسے دل کے مرض کو دوسروں کے ساتھ اخلاق سے پیش آتے ہیں اور ہر بات پر شکریہ ادا کرتے رہتے ہیں ،

انکی دہنی اور جسمانی حالت دوسرے لوگوں کے مقابلے میں تیزی سے بہتر ہوتی ہے۔ماہرین نے تحقیق میں 186 افراد کو شامل کیا گیا اور انکو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں ایک گروپ کے افراد کو کہا گیا کہ وہ کسی کے کام کرنے پر اچھا سے پیش آئے اور شکریہ ادا کریں اور خوش رہیں جبکہ دوسرے گروپ کے افراد کو کہا گیا کہ کوئی بات نہ کریں۔ تحقیق کار پروفیسر پال ملز کا کہنا تھا کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ دوسروں کا شکریہ ادا کرنے والے مریضوں کا موڈ خوشگوار رہا، جس کے باعث وہ کم تھکے اور کم دباو¿ کا شکار ہوئے جبکہ ان کی حالت دوسرے گروپ کے افراد کے مقابلے میں نسبتا بہتر رہی۔پروفیسر کا کہنا تھا کہ یسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے اور شکریہ ادا کرنے سے دل خوش اور مضبوط رہتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ تندرست رہتے ہیں، لہذا دل کے امراض سے بچنے کیلئے ہمیں بھی یہ عادت اپنانی چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں