آپ سے زیادہ منحوس چہرہ کبھی نہیں دیکھا

سلیمان بن عبدالملک ایک دن شکار کھیلنے کیلئے نکلا۔ وہ بہت ہی شگون کے وہم میں مبتلا تھا۔ جب وہ راستہ پر گزرا تو اسے ایک کانا آدمی ملا۔ اس نے حکم دیا کہ اسے گرفتار کر لو اور اسے ویران کنوئیں میں ڈال دو۔ اگر ہمیں آج شکار مل گیا تو اس کو چھوڑ دیں گے۔ ورنہ قتل کر دیں گے۔ کیونکہ یہ شخص اس علم کے باوجود کہ ہم شگون لیا کرتے ہیں ہمیں کیوں ملا؟ پس اس کو ویران کنوئیں میں ڈال دیا گیا۔ سلیمان نے اس دن اپنی زندگی میں سب سے زیادہ شکار پایا۔

اس نے واپسی پر اس شخص کو کنوئیں سے نکالنے کا حکم دیا۔ جب وہ اس کے سامنے آیا تو سلیمان نے کہا ’’اے شیخ! میں نے تجھے بہت مبارک و مسعود پایا‘‘ بوڑھے شخص نے کہا ’’آپ نے سچ کہا ہے لیکن میں نے آپ کے چہرے سے زیادہ منحوس چہرہ کبھی نہیں دیکھا‘‘۔ سلیمان ہنس پڑا اور اسے انعام دے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔ علامہ اقبالؒ نے غلط کو ’’ط‘‘ کی بجائے ’’ت‘‘ سے کیوں لکھا؟ علامہ موصوف کو جب ’’سر‘‘ (ناٹ ہڈ) کا خطاب گورنمنٹ کی طرف سے پیش کیا گیا تو انہوں نے اس خطاب کو قبول کرنے میں یہ شرط رکھ دی کہ ان کے استاد مولانا میر حسن کو بھی شمس العلماء کے خطاب سے سرفراز کیا جائے کہ ان کی یعنی مولانا کی سب سے بڑی تصنیف خود میں ہوں چنانچہ اس شرط کو پورا کیا گیا۔ بچپن میں استاد نے املا لکھائی

تو علامہ اقبال نے غلط کو ’’ط‘‘ کی بجائے ’’ت‘‘ سے لکھا۔ استاد نے کہا ’’غلط‘‘ کا لفظ ط سے لکھا جاتا ہے۔ ’’علامہ اقبال نے کہاکہ غلط کو غلط ہی لکھنا چاہئے۔ حضرت اقبال مغفور سے کسی نے کہا ایک شخص نے آپ کے کلام میں کئی غلطیاں نکالی ہیں۔ اقبالؒ نے کہا ’’تو میں نے کب یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرا کلام کلام مجید ہے جس میں کوئی غلطی نہیں‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں