عورتوں کیلئے کیا چیز بہتر ہے؟

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ایک واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپس میں بات چیت کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے پوچھا کہ بتاؤ عورتوں کیلئے کیا چیز بہتر ہے؟ تو جوابا مختلف باتیں ہوتی رہیں کہ اچانک کسی کام سے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو گھر جانا پڑگیا تو انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھ لیا کہ دربارِ نبوت میں یہ بات پوچھی جارہی ہے کہ عورت کیلئے کیا بہتر ہے۔ اگر آپ کچھ بتاسکتی ہیں تو بتائیں۔

بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فر مایا : عورتوں کیلئے بہتر یہ ہے کہ نہ تو وہ کسی نامحرم کو دیکھیں اور نہ ان کو کوئی نامحرم دیکھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ بات حضرت محمد صلى اللہ علیہ وآلہ و سلم کی دربار میں پہنچادی – جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے یہ بات سنی تو فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تو میرے جگر کا ٹکڑا ہیں – یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کو اس بات سے خوشی ہوئی۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا واقعہ یہ کون ہیں؟ دوہزار دوسو دس احادیث مبارکہ ان سے روایت ہیں – ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم نے فرمایا کہ میری عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تو آدھا دین ہیں۔ اب جن کو آدھا دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم فرمارہے ہیں ان کا عمل کیا ہے؟

امام احمد رحمۃاللہ علیہ نے روایت کی ہے امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی علیہ السلام میرے کمرے میں رہتے تھے۔ اللہ رب العزت کی شان نبی علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے اپنے پاس بلالیا تو میرے کمرے میں آپکی قبر مبارک بنی۔ فرماتی ہیں کہ جب قبر بن گئی تو میں معمول کے مطابق اس کمرے میں آتی جاتی رہتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم تو میرے خاوند ہیں پردے کی تو بات نہیں۔ پھر فرماتی ہیں

کہ کچھ عرصہ کے بعد میرے والد یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتقال ہوا تو وہ بھی وہیں آگئے۔ فرماتی ہیں کہ اب ایک تو میرے خاوند ہوگئے اور ایک میرے والد۔ تو اب بھی میں اسطرح آتی جاتی رہتی تھی ۔کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر مبارک بھی وہاں بنی تو فرماتی تھیں کہ اب میں پردے سے جاتی تھی۔ ایک واقعہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا ہےیہ روایت ابوداؤد میں بھی ہے۔ نسائی میں بھی ہے۔ ترمذی شریف میں بھی ہے۔  ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی بیٹھی ہوئی ہیں کہ ایک صحابی حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے۔ یہ ایک نابینا صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ہیں ۔جب یہ تشریف لائے

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے اپنی ازواج یعنی حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو یہ حکم دیا کہ آپ دونوں اندر تشریف لے جائیں کیونکہ ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ اندر تشریف لارہے ہیں – امھات المومنین کہنے لگیں کہ وہ تو نابینا ہیں۔ نہ ہی دیکھ سکتے ہیں اور نہ پہچان سکتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم بھی نہیں دیکھ سکتیں؟ کیا تم بھی نہیں پہچان سکتیں؟ جب آپﷺ نے یہ بات فرمائی تو وہ دونوں اندر تشریف لے گئیں اور صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ اندر تشریف لے آئے ۔ ایک صحابیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا جن کا نام ام خلاد رضی اللہ تعالٰی عنہا تھا۔ ان کے بیٹے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی جگہ گئے اور شہید ہوگئے ۔

اللہ رب العزت کی شان کہ یہ اپنے بیٹے کی معلومات کیلئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں ۔جس وقت یہ آئیں تو مکمل طور پر پردے کی حالت میں تھیں ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ تمھارا جوان بیٹا شہید ہوگیا ہے ۔ ایک صحابی رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو فرمایا کہ دیکھو اتنی بڑی خبر کہ جوان بیٹا شہید ہوگیا ہے۔ یہ خبر سن کر بھی یہ عورت اتنا کامل پردے کی حالت میں نکلی ۔ تو ام خلاد رضی اللہ تعالٰی عنھا فرمانے لگیں ،میرا بیٹا فوت ہوا ہے حیا فوت نہیں ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں