چند مشہور سائنس دانوں کی بد اخلاقیات

سائنس دان ہمیں کتنے پر کشش لگتے ہیں کیونکہ وہ ہم سے مختلف اور بے حد ذہین ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ نے کسی کو کسی پر کوئی برتری نہیں دی ہے۔ اگر سائنسدانوں کو بہت اچھا آئی کیو دیا ہے تو ساتھ میں ان کو یہی غور وفکر اور ہر وقت کی سوچیں پاگل پن کی طرف مسلسل مدعو کرتی رہتی ہیں۔ جس کا دماغ زیادہ چلتا ہو، وہ دنیا کے لیے جتنا مفید ہوتا ہے اپنی ذات کے لیے اتنا ہی مضر ثابت ہوتا ہے۔ نیوٹن کو لوگ بہت جینیس مانتے ہیں۔ اس نے کشش سقل یعنی گریویٹی سے دنیا کو آشنا کیا۔ لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں

کہ کشش سقل کا کانسیپٹ نیوٹن سے بہت پہلے رابرٹ ہوک نے دیا تھا۔رابرٹ ہوک کا دماغ اتنا روشن نہیں تھا کہ وہ اس کے پیچھے چھپی ریاضی کے اصول ترتیب دے پاتا اور وہیں وہ بے چارہ مار کھا گیا۔ نیوٹن بہت ذہین تھا لیکن اس کا کردار اور اخلاق اتنا خوبصورت ہر گز نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے رابرٹ کی تھیوری کو آگے بڑ ھایا ہے مگر جتنا موٹا دماغ ہوتا ہے اتنا ہی خود سر فطرتاً بن جاتا ہے۔ اس نے رابرٹ کو ہمیشہ اپنی ہر کتاب اور تقریر میں نا لائق بولا اور اس کی حد درجہ تو ہین کی۔ نیوٹن اس قدر عدم تحفظ اور نفرت کا شکار تھا کہ اس نے رابرٹ کے مرنے کے بعد اس کا آخری پورٹریٹ جلا دیا تھا۔

نیوٹن چاہتا تھا کہ صرف اس کا نام کشش سقل کی دریافت کے ساتھ منسوب کیا جائے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔ آج دنیا بھر کی سائنس کی نصابی کتابوں میں نیوٹن کا نام پایا جاتا ہے اور اس کی کشش سقل کی تھیوری پڑھائی جاتی ہے جبکہ بے چارہ رابرٹ ہوک صرف فوٹ نوٹ میں یاد کیا جاتا ہے۔ تھامس ایڈیسن ایک اور نامور سائنس دان، جس کو ہم پڑھتے ہیں اور رشک کرتے ہیں۔ اس نے رشین سائنس دان ٹیسلا کے ساتھ بالکل یہی حرکت کی تھی۔ ٹیسلا نے جب اے سی کرنٹ دریافت کیا تو ایڈیسن اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اے سی کرنٹ کتنی زیادہ مقدار میں پروڈیوس ہو سکتا تھا اور وہ اس کے عام ڈی سی کرنٹ سسٹم سے زیادہ موثر تھا۔

لیکن اپنی ذاتی مقبولیت خراب کرنا سائنس دان کی فطرت کے خلاف ہوتا ہے۔ ایڈیسن اس حد تک پاگل پن اور عدم تحفظ کا شکار ہو چلا تھا کہ اس نے امریکیوں کو اے سی کرنٹ کو خطر ناک ثابت کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایسے تجربات کیے جن میں وہ چھوٹے چھوٹے پلوں کو اے سی کرنٹ لگا کر مارتا رہا۔اس نے امریکیوں کو بہت عرصے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ اے سی کرنٹ کام کا کانسیپٹ نہیں تھا۔ اس کے لیے اس نے ان مظلوم پلوں کی جانیں جان بوجھ کر ضائع کیں۔ صرف یہی نہیں ارسطو ایک ایسا نام ہے جس سے سب واقف ہیں۔ ارسطو نے اخلاقیات کا سبق جھاڑا۔ ساری عمر اس کی فلاسفیاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھیں اور وہ لوگوں کو اچھے اخلاق کا سبق دیتا پھرتا تھا۔ اگر آج آپ سب اس بات سے واقف ہوتے کہ وہ عورتوں کے بارے میں کیا بولتا تھا

تو شاید ہم سب اس کی اخلاقیات کو مانتے ہی نہ۔ ارسطو ایک عورت کی تعریف اس طرح کرتا تھا کہ وہ ایک ناقص مرد ہوتی ہے۔ اسے غلطی سے تخلیق کیا گیا ہے۔ وہ کمزور اور کم عقل مخلوق ہے اور اس کی کوئی جگہ نہیں بلکہ اسے صرف مردوں کی باندی بننے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اس حد تک عورتوں کی کسی قسم کی برابری کے خلاف تھا کہ اس کا یہ کہنا تھا کہ عورتوں کو مردوں سے کم کھانا ملنا چاہیے اور انہیں بولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ برابری کا تو میں بھی نہیں کہتی مگر یہ بولنا کہ وہ جانوروں کی مانند کم تر مخلوق ہے یا وہ کم عقل ہوتی ہے اس لیے اس کی خوراک بھی کم ہونی چاہیے، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انسان اور جانور میں ہمیشہ فرق رہتا ہے اور ہمارا دین بھی درس دیتا ہے کہ عورت کا ایک درجہ مرد سے کم ہے

لیکن ارسطو اتنا بڑا انسانیت کا علمبردار تھا وہ یہ کیسے کہہ سکتا تھا کہ عورت ناقص مرد ہے یا جانور کی مانند ہے۔ انسان کی حیثیت کوئی اور انسان کبھی مقرر نہیں کر سکتا۔ اس کی اخلاقیات میں کوئی کمی نہیں تھی۔ اس نے انسانیت کے ایسے سنہری اصول قلم بند کیے کہ وہ اسلام کے بہت قریب تھے مگر اس کا اپنا اخلاق قابل اعتراض تھا۔ انسان کی عقل جتنی زیادہ ہو، وہ اپنے اور دوسروں کے لیے اتنا ہی مفید ہے اگر مثبت سوچ اختیار کرے مگر ہم اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ ہر انسان کا باطن اچھائی اور برائی دونوں سے عبارت ہے ۔ جب ایک ذہین انسان اپنی یا کسی اور کی بربادی پر تل جائے تو دنیا بھر کے لیے بہت بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں