زبردستی گوشت کھلایا کرتا تھا

بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جس کا نام سارہ تھا۔ وہ جس ملک میں رہتی تھی وہاں کا بادشاہ بڑا ظالم تھا۔ وہ لوگوں کو زبردستی خنزیر کا گوشت کھلایا کرتا تھا جو انکار کرتا اسے قتل کروا دیتا، چنانچہ اس عورت کو بھی اپنے بیٹوں سمیت بادشاہ کے پاس لایا گیا۔ اس نے سارہ کے سب سے بڑے بیٹے کو پاس بلا کر کہا کہ خنزیر کا گوشت کھاؤ، اس نے کہا میں اللہ تعالٰی کی حرام کردہ چیز کو ہرگز نہیں کھاؤں گا۔

بادشاہ نے جب انکار سنا تو اس کے ہر ہر عضو کو کاٹ ڈالا شہید کر دیا۔ پھر ظالم بادشاہ نے اس سے چھوٹے لڑکے کو بلایا اور اسے خنزیر کا گوشت کھانے کو کہا۔ اس لڑکے نے بھی جرات ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کیا تو بادشاہ نے طیش و غصہ میں آ کر حکم دیا کہ ایک تانبے کی دیگ میں تیل ڈال کر خوب گرم کرو, جب تیل خوب گرم ہو گیا تو ظالم بادشاہ نے اس لڑکے کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا اور وہ شہید ہو گیا۔ پھر بادشاہ نے اس سے چھوٹے لڑکے کو بلایا اور خنزیر کا گوشت کھانے کو کہا تو اس نے کہا کہ اے بادشاہ تو ذلیل و کمزور ہے تو اللہ عزوجل کے مقابلہ میں کچھ نہیں تیرے جی میں جو آئے وہ کر لے لیکن میں اللہ کی حرام کردہ چیز کو منہ نہ لگاؤں گا۔ بادشاہ نے یہ سن کر کہا

کہ میں تمھیں سخت سزا دوں گا۔چنانچہ بادشاہ کے حکم پر اس نوجوان کی گردن کی کھال کاٹی گئی، پھر اس کے سر اور چہرہ کی کھال اتاری گئی اور اسے شہید کر دیا گیا۔ بادشاہ نے ظالمانہ انداز سے باقی بھائیوں کو بھی اسی طرح شہید کر دیا۔ اس کے بعد سب سے چھوٹا بھائی باقی بچا۔ بادشاہ نے اس کی والدہ کو بلایا اور کہا کہ دیکھ جس طرح باقیوں کا حشر کیا ہے تیرے اس چھوٹے بیٹے کا بھی یہی حشر کروں گا، تو اسے جا کر سمجھا کہ اگر یہ لقمہ کھانے پر راضی ہو گیا تو تم دونوں کو چھوڑ دوں گا۔ پھر ماں اپنے بیٹے کو تنہائی میں لے گئیاور اس سے کہا میرے لخت جگر کیا تو جانتا ہے کہ تیرے بھائیوں میں سے ہر ایک پر میرا ایک حق ہے اور تجھ پر میرے دو حق ہیں وہ یہ کہ میں نے تیرے بھائیوں کو دو دو سال دودھ پلایا لیکن جب تم پیدا ہوئے

تو نہایت کمزور تھے، تمھاری اس کمزوری نے مریے دل میں تمھاری شدید محبت پیدا کی تو اس کمزوری اور تمھاری محبت کی وجہ سے تمھیں چار سال دودھ پلایا، تجھے اللہ عزوجل اور اس کے احسان کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ تو ہرگز خنزیر کا گوشت نہ کھانا اور کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت تو اپنے بھائیوں سے اس حال میں ملے کہ تو ان میں سے نہ ہو۔سعادت مند بیٹے نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ اے ماںمیں تو ڈر رہا تھا کہ شائد آپ مجھے خنزیر کا گوشت کھانے پر ابھاریں لیکن اللہ عزوجل کا احسان ہے کہ اس نے مجھے آپ جیسی عظیم ماں عطا فرمائی۔ پھر وہ عورت اپنے بیٹے کو لے کر بادشاہ کے پاس آئی اور کہا کہ یہ لو اب یہ وہی کہے گا جو میں نے اسے کہا۔ بادشاہ خوش ہوا اور اس کی طرف خنزیر کا گوشت بڑھاتے ہوئے کہا

یہ لو اس میں سے کچھ کھا لو۔یہ سن کر بہادر نوجوان نے کہا اللہ کی قسم میں ہرگز اس چیز کو نہ کھاؤں گا جس کو اللہ نے حرام کیا ہے۔ پھر ظالم بادشاہ نے اس چھوٹے لڑکے کو بھی شہید کر دیا۔ پھر وہ اس بہادر عورت کی طرف ہوا اور کہا کہ دیکھ تو یہ لقمہ کھا لے تجھے منہ مانگا انعام دوں گا ورنہ تجھے بھی تیرے بیٹوں کی طرح لقمہ اجل بنا دوں گا۔وہ بہادر عورت بولی کہ اپنے بیٹوں کے جانے کے بعد اب مجھے زندگی سے سرو کار نہیں اور تیرے کہنے پر میں اپنے رب کی نافرمانی ہرگز نہ کروں گی۔ جب ظالم بادشاہ نے یہ باتیں سنی تو طیش و غصہ کی حالت میں اس عورت کو بھی شہید کر دیا۔ اور اس طرح عظیم ماں کی روح اپنے فرزندوں سے جا ملی ۔ یہ واقعہ حضرت وہب بن منبہؒ سے مروی ہے۔جب پتھر توڑنے والے چند مزدور حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے

اور عرض کی کہ جس قدر مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے کیا ہم سے پہلے لوگ بھی ایسی مصیبتوں سے چار ہوئے؟ آپ نے ان کی بات سن کر ارشاد فرمایا اگر تم اپنی مصیبتوں اور اپنے سے سابقہ لوگوں کے مصائب کا موازنہ کرو تو تمھیں ان کے سامنے اپنی مصیبتیں ایسے لگیں گی جیسے آگ کے مقابلے میں دھواں۔ پھر آپؒ نے اوپر بیان کیا گیا واقعہ ان لوگوں کو سنایا۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں