بچوں کا معصوم مضمون

ایک پرائمری اسکول ٹیچر نے کلاس کے بچوں کو کلاس ورک دیا کہ تمام بچے ایک مضمون لکھیں کہ “وہ خدا سے کیا چاہتے ہیں۔” سب بچوں نے مضمون لکھا… وہ ٹیچر تمام بچوں کے مضامین اپنے گھر پر چیک کرنے لگی اس دوران ایک مضمون نے اس کو آبدیدہ کردیا… اس کا شوہر اس کے قریب ہی بیٹھا تھا اس کے آنسو دیکھ کر اس نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ ٹیچر بولی یہ مضمون پڑھیے یہ ایک بچے نے لکھا

ہے- شوہر نے مضمون پڑھنا شروع کیا … “اے خدا آج میں آپ سے بہت خاص مانگتا ہوں اے خدا مجھے موبائیل فون بنادے، میں موبائیل بننا چاہتا ہوں، ایسے ہی جینا چاہتا ہوں جیسے میرے گھر میں موجود موبائیل فون جی رہا ہے… میں موبائیل کی جگہ لیکر بہت خاص بننا چاہتا ہوں، میں اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔ میں تمام گھر والوں کی توجہ کا مرکز بننا چاہتا ہوں نہ ہی کوئی مجھے ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ کرے گا اور نہ یہ مجھے خود سے الگ کرے گا۔ میں ایسی ہی خاص احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاؤں گا جیسے وہ موبائیل کو استعمال کرتے ہیں، اور جب فون خراب ہوجاتا ہے تو اسکی طرح وہ میری زرا سی خرابی سے بہت پریشان ہوں جائیں۔ میں اپنے ابو کی توجہ کا بھی مرکز بن جاؤں گا

جیسے وہ موبائیل کو دیتے ہیں کہ آفس سے آتے جاتے، گھر پر ہر جگہ اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں، چاہے ابو کتنے ہی تھکے ہوئے ہوں وہ صرف مجھ کو ہی توجہ دیں گے، میں چاہتا ہوں میری امی بھی میری طرف ایسے ہی متوجہ رہیں جیسے وہ موبائیل کی طرف متوجہ رہتی ہیں چاہے وہ کتنی ہی پریشان اور غصے میں ہوں۔ اور مجھے نظر انداز کرنے کے بجائے وہ میری طرف متوجہ رہیں گی۔ مجھے دیکھ کر مسکرائیں گی ہنسیں گی- اور میرے بھائی بہن بھی جو مجھ سے لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں میرے موبائیل بن جانے کے بعد میرے اردگرد رہیں گے میرے لیے امی ابو کی منتیں کریں گے اس طرح سب کے سب میری طرف متوجہ رہیں گے اور آخر میں سب سے بڑھ کر یہ کہ سب میری وجہ سے پریشان رہتے ہیں

اور غصہ کرتے ہیں تو میرے موبائیل بن جانے کے بعد میں ان سب کو ایسے ہی خوش و خرم رکھ سکوں گا- اے خدا میں نے تجھ سے زیادہ نہیں مانگا بس یہ مانگا ہے کہ مجھے موبائیل بنادے مجھے اس کی جگہ دے دے۔” ٹیچر کے شوہر نے افسوسناک انداز سے بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا “ اے خدایا کتنا مایوس بچہ ہے۔ بے چارے کے ساتھ کتنا برا ہوتا ہے اس کے گھر میں اس کے والدین اور بہن بھائیوں کی طرف سے۔ ٹیچر نے نظریں اٹھا کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ مضمون “ہمارے اپنے بچے“ کا لکھا ہوا ہے… یہ کہانی تو یہاں ختم ہو گئی لیکن یہ صرف کہانی نہیں تھی یہ ہم سب کا معاملہ ہے. ہم اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بچوں سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں. موبائیل اور کمپیوٹر پر ہمارا زیادہ وقت گزرتا ہے. کیا

یہ بہتر نہیں کہ ہم ایک منٹ کے لیے رک جائیں اور اپنی روٹین کو دیکھیں کہ ہم کس کس کو مناسب وقت نہیں دے پا رہے اور اپنی روٹین کو درست کریں. مشینوں سے نکل کر انسانوں میں وقت گزاریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں