حضرت عثمان غنی اور پانی کا کنواں

سیدنا عثمان ؓ دربار رسالت میں. حاضر ہوئے آقاؐ کے لب خشک دیکھے صحابہؓ سے پوچھا کیا معاملہ ہے بتایا گیا یہودی نےکنویں سے پانی دینے سے انکار کر دیاعثمان ؓ دوڑ کے گئے کنواں خریدا پانی کا پیالہ بھر لائے رسول اللہؐ کو پیش کیا آقا نے ہاتھ بڑھائے عثمان ؓ نے ہاتھ کھینچ لیے آقاؐ آج ہاتھ عثمان ؓ کے ہونگے لب مصطفٰیؐ کے ہونگے آقاؐ نےہاتھ اٹھا کہ صحابہ ؓ کو گواہ بنا کہ کہا روزمحشر حوض کوثر

پہ میرے دائیں طرف ابوبکرؐ بائیں عمر ؓ ہونگے جو اپنی طرف والوں کو پلائیں گے لیکن میرے صحابہ ؓ گواہ رہنا جب عثمان ؓ آئے گا میں اپنے ہاتھوں سے عثمان ؓ کو پلاؤں گا عثمان ؓ ہاتھ آگے بڑھائے گا میں ہاتھ پیچھے کرلونگا اور اس دن ہاتھ مجھ محمدؐ کے ہونگے لب عثمان ؓ کے ہونگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں