ہنر مند افراد کے لیے امید کی ایک کرن

معروف بزنس انالسٹ محمد بلال مصطفٰی اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں برسرِ روزگار افراد کو بھی نوکری سے نکالے جانے کا خدشہ ہر وقت رہتا ہے۔ ملازمت دینے والے اداروں کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں کم پیسوں میں بہترین ملازم مل جائے۔

ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے کئی ہنرمند افراد روزی روٹی کےلیے ایسی ملازمت کرنے کی ہامی بھی بھر لیتے ہیں جہاں تنخواہ ان کے ہنر کے مطابق نہیں ہوتی۔
2016 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 53 لاکھ افراد بے روزگار ہیں ۔ یہ شرح گزشتہ 13 سال کی بلند ترین سطح پر ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔اس بے یقینی کی کیفیت میں یہ لازم ہوگیا ہے کہ ہنرمند انسان اپنے ہنر کو بروئے کار لاکر محفوظ اور بہتر کمائی کے مواقع پیدا کرے

جس سے نہ صرف اس کی ذاتی معاشی حیثیت بہتر ہو بلکہ ملک و قوم کو بھی فائدہ ہو۔اس تمام پسِ منظر میں ازخود ملازمت یا فری لانسنگ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان ان حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتا ہے؛ اور سروے یہ بتاتے ہیں کہ آنے والا دور فری لانسنگ ہی کا ہے۔دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ آپریشنل اور دیگر مراعات کم کرنے کےلیے کمپنیاں فل ٹائم ملازم رکھنے کے بجائے کنٹریکٹ یا کام کو ’’آؤٹ سورس‘‘ (outsource) کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس سے ایک تو کمپنی کے خرچوں میں نمایاں کمی آجاتی ہے اور ساتھ ہی کم قیمت میں کوالٹی کا کام بھی مل جاتا ہے۔

فروری 2017 میں Upwork کی ایک رپورٹ کے مطابق، جو فری لانسنگ کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے، امریکہ میں تقریباً آدھی سے زیادہ کمپنیاں روایتی ملازمتیں دینے کے بجائے فری لانسرز کو ترجیح دے رہی ہیں۔فری لانس یونین اور Upwork کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکہ میں 2016 میں فری لانسنگ مارکیٹ میں 55 ملین افراد کا اضافہ ہوا ہے جو آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ اور یہ رجحان (ٹرینڈ) صرف امریکہ یا ترقی یافتہ ممالک میں ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی فروغ پارہا ہے۔پنجاب آئی ٹی بورڈ کے چیئرمین کے مطابق اس وقت دنیا میں پاکستان فری لانسنگ کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک ہے

اور اس وقت تقریباً 150,000 سے زیادہ فری لانسرز معیشت میں تقریباؑ ایک ارب امریکی ڈالر کا حصہ ڈال رہے ہیں۔ قابل ستائش بات یہ ہے کہ وہ سب افراد حکومتی سرپرستی کے بغیر یہ کام انجام دے ہے ہیں۔اس سارے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اگر اچھی نوکری نہ ملے تو اپنے زورِ بازو پر بہترین روزی کمائی جا سکتی ہے۔ اور فری لانسنگ واحد شعبہ ہے جس میں حکومتی امداد کی اور نہ ہی کسی بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنکشن کی بدولت ہر وہ شخص یہ کام شروع کرسکتا ہے جس میں کچھ کرنے کی لگن پائی جاتی ہو۔

فری لانسنگ کے فائدے کی بات کی جائے تو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں کام کے پیسے اچھے مل جاتے ہیں۔ اپنے ہنر اور تجربے کی بنیاد پر آپ کام کی منہ مانگی قیمت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی مرضی کے اوقات طے کیے جاسکتے ہیں جس کی سہولت 9 تا 5 والی ملازمت میں نہیں ملتی۔سب سے اہم بات یہ کہ آپ کی ذمہ داری صرف اتنے کام کی ہے جس کے آپکو پیسے مل رہے ہیں۔ نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم۔ اور پروجیکٹ ختم ہونے کے بعد آپ کسی کام کے ذمہ دار نہیں رہتے۔ عمومی طور پر فری لانسنگ پروجیکٹ تھوڑے عرصے جیسے کہ 6 ماہ یا ایک سال کے ہوتے ہیں

لیکن دورانیہ اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ وہ اس صورت میں کہ اگر کلائنٹ آپ کے کام سے خوش ہو تو کنٹریکٹ مزید کئی سال تک بڑھ سکتا ہے۔ملک میں معیشت کے حالات کے پیش نظر فری لانسنگ ہی پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کا سہارا ہے۔ صرف بے روزگار نہیں بلکہ برسرِ روزگار افراد اگر اپنی کمائی کو بڑھانا چاہتے ہیں تو وہ بھی دفتری اوقات کے بعد چند گھنٹوں کےلیے فری لانسنگ کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں