بھارت نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں،تمام راستے بند،افغانستان نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

افغان سفیر عمر زاخیل وال نے کہاہے کہ صدر اشرف غنی نے پاکستانی ٹرکوں کی افغانستان میں داخلے پر پابندی کااعلان کیا تھا تو افغان سفیر نے کہا کہ اس وقت بھی پاکستان کے ٹرک افغانستان میں داخل ہورہے ہیں

اگر پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تجارت کرنی ہے اورافغانستان کو مرکزی ایشیاء کیلئے تجارت کر نے کیلئے استعمال کر نا ہے تو پاکستان کو بھی افغانستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کیلئے راستہ دینا پڑیگا۔جب افغان سفیر سے پاکستانی مذہبی رہنماؤں سے ان کی ملاقاتوں کے مقاصد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ پاکستانی علماء کا افغانستان کے امن میں رول اہم ہے اوراسی لئے وہ مذہبی رہنماؤں اس سلسلے میں ان کا کر دارادا کر نے کی درخواست کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مولاناسمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن اور مولانا فضل الرحمن خلیل سے ملاقاتوں میں انہیں محسوس ہوا کہ ان کی سوچ مثبت ہے اور وہ افغانستان میں بھائی کے ہاتھوں بھائی کے خون بہنے کو درست نہیں سمجھتے ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان باڑ لگانے کے سوال پر عمر زاخیل وال نے کہا کہ افغان حکومت باڑ لگانے کی حامی نہیں ہے کیونکہ ہماری نظر میں اس سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ دہشتگردی پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی سے ختم ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ پشاور میں فوجی سکول پر حملے کے بعد افغان حکومت نے واقعہ میں کردارادا کر نے والے کئی افراد کو گرفتار کر کے انہیں پاکستان کے والے کیا تھا جس میں کئی کو پھانسی کی سزا بھی دی جا چکی ہے افغان فورسز نے سکول حملے کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف ایکشن بھی لیا تھا ۔افغانستان ٹی ٹی پی کی وہاں موجودگی سے متعلق پاکستان کی تشویش پر اتفاق ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی پاکستان کی افغان طالبان اور دیگر گروپوں کی موجودگیاور پاکستان کی تشویش پر مذاکرات کئے جائیں تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جاسکے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ افغان طالبان کے لوگ پاکستان میں موجود ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اپنی سر زمین ان کو استعمال نہ ہونے دے ۔افغان سفیر عمر زاخیل وال نے کہاہے کہ صدر اشرف غنی چین پاکستان راہداری منصوبے (سی پیک)کے مخالف نہیں ہیں اور بھارت میں انہوں نے سی پیک کے حوالے سے جو کہا تھا کہ وہ ایک سوال کے جواب میں تھا ۔صدر اشرف غنی سی پیک کی حمایت کرتے ہیں ٗپاکستان کے ساتھ راہداری اور تجارت افغانستان کے فائدے میں ہے ۔ان خیالات کا اظہار افغان سفیر نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو اس لئے شکایت ہے کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کے راہداری اور تجارت کے معاہدے موجود ہیں اس پر مکمل عمل نہیں ہورہاہے ۔افغانستان میں یہ سوچ پیدا ہورہی ہے کہ اگر پہلے سے باضابطہ تحریری معاہدے موجود ہوں اور اس پر عمل نہیں ہورہا ہے تو سی پیک میں افغانستان کو کیا فائدہ ہوگا ؟تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھاناچاہتا ہے اور افغانستان کے سرحدی اور تجارتی شہر جلال آباد ٗ راہداری تجارت کیلئے خوست اور اسی طرح قندھار میں تجارت کیلئے پاکستان اہم ہے نہ کہ بھارت ۔

کیٹاگری میں : World

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں