ماڈرن لائف کے انوکھے اُصول

روفیسر نے اپنے لیکچر کے دوران گریجویشن کر رہی لڑکیوں سے پوچھا۔ذرا مجھے بتائیے کہ اس ہال میں بیٹھی کتنی لڑکیوں کے بوائے فرینڈس ہیں؟۔یہ سن کر ہال میں بیٹھی لڑکیاں خوشی خوشی کھڑی ہو گئیں۔ اور اکیلی بیٹھی خاموش اس لڑکی کو حقارت آمیز نظروں سے

دیکھ کر قہقہے لگانے لگیں۔جس کا کوئی بوائے فرینڈ نہ تھا ایک گائوں میں ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ کچھ ان بن ہو گئی۔ ابھی جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ اسی اثناءمیں ان کا مہمان آ گیا۔ خاوند نے اسے بیٹھک میں بٹھا دیا اور بیوی سے کہا کہ فلاں رشتہ دار مہمان آیا ہے اس کے لیے کھانا بناو۔وہ غصّے میں تھی کہنے لگی تمہارے لئے کھانا ہے نہ تمہارے مہمان کے لئے۔وہ بڑا پریشان ہوا کہ لڑائی تو ہماری اپنی ہے،اگر رشتہ دار کو پتہ چل گیا تو

چل گیا تو خواہ مخواہ کی باتیں ہو گی۔لہٰذا خاموشی سے آکر مہمان کے پاس بیٹھ گیا۔اتنے میں اسے خیال آیا کہ چلو بیوی اگر روٹی نہیں پکاتی تو سامنے والے ہمارے ہمسائے بہت اچھے ہیں،خاندان والی بات ہے،میں انہیں ایک مہمان کا کھانا پکانے کے لیے کہہ دیتا ہوںچنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی کی طبیعت خراب ہے لہٰذا آپ ہمارے مہمان کے

لئے کھانا بنا دیجئے۔انہوں نے کہا بہت اچھا،جتنے آدمیوں کا کہیں کھانا بنا دیتے ہیں۔وہ مطمئن ہو کر مہمان کے پاس آ کر بیٹھ گیا کہ مہمان کو کم از کم کھانا تو مل جائے گا جس سے عزت بھی بچ جائے گی۔

تھوڑی دیر کے بعد مہمان نے کہا‘ذرا ٹھنڈا پانی تولا دیجئے۔ وہ اٹھا کہ گھڑے کا ٹھنڈا پانی لاتا ہوں۔اندر گیا تو دیکھا کہ بیوی صاحبہ تو زار و قطار رو رہی ہے۔ وہ بڑا حیران ہواکہ یہ شیرنی اور اس کے آنسو۔کہنے لگا کیا بات ہے؟ اس نے پہلے سے بھی زیادہ رونا شروع کر دیا۔کہنے

لگی: بس مجھے معاف کر دیں۔وہ بھی سمجھ گیا کہ کوئی وجہ ضرور بنی ہے۔اس بچارے نے دل میں سوچا ہو گا کہ میرے بھی بخت جاگ گئے ہیں۔ کہنے لگا کہ بتائو تو سہی کہ کیوں رو رہی ہو؟ اس نے کہا کہ پہلے مجھے معاف کر دیں پھر میں آپ کو بات سناو¿ں گی۔خیر اس نے کہہ دیا کہ جو لڑائی جھگڑا ہوا ہے میں نے وہ دل سے نکال دیا ہے اور آپ کو معاف کردیا

ہے۔کہنے لگی‘کہ جب آپ نے آکر مہمان کے بارے میں بتایا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ تمہارے لئے کچھ پکے گا اور نہ مہمان کے لئے،چلو چھٹی کرو تو آپ چلے گئے۔مگر میں نے دل میں سوچا کہ لڑائی تو میری اور آپ کی ہے، اور یہ مہمان رشتہ دار ہے،ہمیں اس کے سامنے یہ پول نہیں کھولنا چاہئے۔چنانچہ میں اٹھی کہ کھانا بناتی ہوں۔جب میں کچن(باروچی خانہ) میں گئی تو میں نے دیکھا کہ جس بوری میں ہمارا آٹا پڑا ہوتا ہے،

ایک سفید ریش آدمی اس بوری میں سے کچھ آٹا نکال رہا ہے۔میں یہ منظر دیکھ کر سہم گئی۔ وہ مجھے کہنے لگا: اے خاتون!پریشان نہ ہو یہ تمہارے مہمان کا حصّہ تھا جو تمہارے آٹے میں شامل تھا۔اب چونکہ یہ ہمسائے کے گھر میں پکنا ہے،اس لئے وہی آٹا لینے کے لئے آیا ہوں۔مہمان بعد میں آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس کا رزق پہلے بھیج دیتے ہیں۔

نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں-

سکھ جن مسلمان عورت پر عاشق ہو گیا
فرما رکھا ہے کہ وہ انسانوں کو اذیت پہنچانے اور ان کے معاملات میں دخل اندازی کر کے ان کی گھریلو اور سماجی زندگی تباہ کرنے والے ابلیسی جنات کی پکڑ لیا کریں، مگر اس علم کی

بنا پر بہت سے جھوٹے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور اللہ والوں کی بد نامی کا باعث بن جاتے ہیں، میرے مرید محمد الیاس قادری نے ایسے بہت سے عاملوں کے بارے میں سن رکھا تھا

جو جنات وغیرہ جیسی شیطانی مخلوق کو پکڑنے اور آسیب زدہ انسانوں کی جان ہلکی کرانے کا دعویکرتے تھے مگر وہ اپنے علمی مشاہدے کی وجہ سے یقین نہیں کرتے تھے، محمد الیاس قادری ویسے بھی لبرل حلقے میں شمار ہوتے تھے جو منطق اور حقیقت پر یقین رکھتے

ہیں. ان کے حلقہ دوستان کا شمار کیمونسٹوں میں ہوتا تھا، چند واقعات ایسے رونما ہوئے کہ انہیں اپنے نطریات تبدیل کرنے پڑ گئے.

ہو ایوں کہ ایک دن میں انکے گھر گیا تو موضوع ایسا چھڑ گیا جس میں محمد الیاس قادری بڑھ چڑھ کر تنقید کر رہے تھے، وہ جنات کے وجود کو نہ مانتے نہ ہی کرامات کے قائل تھے، اسی اثنا میں انہیں خبر ملی کہ ہمسایہ میں ایک عورت بہت بیمار ہے اور گھر والے اس کی

تیمار داری کرنے جا رہے ہیں، اس عورت کی بیماری لا علاج تصور کی جاتی تھی اور ڈاکٹروں ، حکیموں نے جواب دے دیا تھا کہ اس کو کوئی مرض نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ

بستر سے لگی ہوئی تھی اور زندگی بڑی تیزی سے ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہی تھی، میں نے الیاس قادری سے کہا کہ انہیں بھی خاتون کی تیماری داری کرنی چاہیے کہ اس طرح

حسن سلوک بڑھتا اور ثواب ملتا ہے، محمد الیاس قادری نے ترت جواب دیا آپ کیوں نہیں جاتے خیر میں انکے ساتھ پیر صاحب کی خواہش پر ہمسایہ کے گھر لے گیا. میں نے جب خاتون پر توجہ فرمائی تو القا ہوا کہ اسے تو سایہ ہے جسمانی نہیں روحانی بیماری ہے، یہ سن

کر گھر والے حیران ہوئے تو کہا پیر صاحب اگر اسے سایہ ہے تو اس کا علاج بھی آپ ہی

کریں، میں نے خاتون کے بستر کا حصار کیا، اس وقت وہ بے ہوش تھی اور اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی، میں نے پڑھائی شروع ی تو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ مریل اور بیمار سے عورت یکدم اتھی اور تیزی سے مجھ پر جھپٹی اور ان کی آنکھیں نوچنے کی کوشش کی، سب

لوگ اچانک گھبرا گئے، میں نے کہا ہاں بھئی کون ہے تو، میں عاشق سنگھ ہوں، اس کا عاشق ہوں، تم چلے جاؤ ورنہ میں اس کو بھی مار دوں گا اور تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا، عورت

کے لہجے میں ایک مرد انتہائی غصہ سے بول رہا تھا. تمام لوگ دم سادھے بیٹھے تھے، تو چاہتا کیا ہے ؟ میں نے سوال کیا، میں اس کو مارنا چاہتا ہوں، پچھلے 35سال سے اس پر قابض ہوں، اس کی مور ت اور موت سے ہی مجھے شانتی ملے گی، عاشق سنگھ بولا، اگر تو

جان لے کر ہی چھوڑنا چاہتا ہے تو میری لے لو، میں نے کہا تو وہ پھر مجھ پر جھپٹا، میں نے اس سے پوچھا ہم کیسے یقین کریں تو واقعی سکھ ہے، اگر سکھ ہے تو تجھے اپنے گرو کا

واسطہ ہے چلا جا کیونکہ تیرے گرو ہمارے بزرگوں کی بڑی عزت کرتے تھے. عاشق سنگھ نے اس موقع پر اپنا کلمہ بھی پڑھ کر سنایا جو عجیب سا تھا، خیر وہ تگ و دو کے بعد مان گیا

اور اس عورت کی جان چھوڑنے کے بعد بھارت چلے جانے پر رضا مند ہو گیا، اس واقعہ نے الیاس قادری کی آنکھیں کھول دیں. اگر وہ اپنی آنکھوں سے یہ نطارہ نہ دیکھتا تو یقیناًً اس حقیقت کو وہم اور جہالت گر دانتا، اس کے ساتھ ہی اس نے مجھ کو آزمانے کی کوشش کی.

انسان ایک دم اپنے نطریات سے تائب نہیں ہوتا، ہوا یوں کہ جب بھی میں قصور کے پاس اپنے گاؤں جاتا تو الیاس قادری بھی میرے ساتھ ہو لیتا، خاص طور پر جہاں جنات کا بسیرا ہوتا یا کسی کا علاج کرنا ہوتا تھا، وہ میرا بغور جائزہ لیتا اور حجتیں کرتا، بال کی کھال اتارتا قریب

ہی ایک گاؤں ہے ویر کے ، وہاں ایک گھر میں آگ لگ جایا کرتی تھی، جس کی وجہ سے گھر کا سامان بھی جل جاتا اور مکین بھی خوفزدہ رہتے تھے. گاؤں والے بھی اس گھر والوں کے پاس جانے سے کترارتے تھے، ان کی زندگی اجیرن ہو چکی تھی کیونکہ اس بات کی کوئی

ضمانت نہیں تھی کہ گھر میں کس وقت آگ لگ جائے، لوگ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا پاتے تھے، مشہور ہو چکاتھا کہ یہاں

جنات کا پورا کنواں بیٹھا تھا، کنواں عملیات میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنات جیسی مخلوق آباد ہوتی ہے، ویر کے گاؤں کے اس گھر میں کئی کنویں تھے اور بہت زیادہ جنات آباد تھے، انہیں وہاں سے نکالنے کی ہمت کوئی بھی نہیں کرتا تھا، سب کہتے تھے کہ کوئی تگڑا

پیر یا عامل ہی ان کو وہاں سے نکال کر انسانوں کو انکے شر سے بچا سکتا ہے، یہ بہت برا متحان تھا اور الیاس قادری نے مجھے اس امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا. ایک وقت میں ایک جن کا اتار ا کرنا آسان نہیں ہوتا، عامل کو جان سے گزر کر اس انجانی اور شریر مخلوق

سے لڑنا پڑتا ہے اگر اس پر وہ قابو پا لے تو پھر شرائط بھی منوا لیتا ہے، ویر کے میں تو پورا کنوں بیٹھا ہوا تھا اور انہیں آگ لگانے کی قوت و تسخیر بھی حاصل تھی، یہ سارے ہندوا اور

سکھ جنات تھے. میں وہاں گیا اور بڑے اطمینان سے پورے کنویں کو قابو کیا اور انکے سردار کو بلا کر اسکے سامنے یہ شرط رکھ دی کہ وہ مسلمان انسانوں کو تنگ کر کے فساد پھیلا رہے ہیں جس سے انسانی بستیوں میں ہلاکتوں اور خوف کا اندیشہ ہے اس لیے وہ شرافت

سے چلے جائیں تو بہتر ہے، پہلے تو انہوں نے آگ سے مجھے ڈرانا چاہا لیکن اللہ کا کلام شیطان کے پیرو کاروں کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے، ان جنات کو بھی گاؤں چھوڑ کر انڈیا جانے پر مجبور ہونا پڑا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں