خواتین کو زندگی گزارنا دن بدن مشکل ہو تا جارہا ہے

پاکستان کے سب بڑے شہر کراچی میں میں خواتین کو زندگی گزارنا دن بدن مشکل ہو تا جارہا ہے ،

خواتین جب گھر سے باہر نکلتیں ہیں تو انہیں یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں چھرمار اپنا وار نہ کر جائے اور ان سے بچ جائیں تو لیٹروں سے ڈر کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے لیکن ایک اور چیز جو اس وقت پورے پاکستان میں کامن ہے جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں

خواتین کو جنسی حراساں کرنا ۔لیکن اس کی تازہ مثال ابھی کراچی میں سما کی معروف اینکر کرن ناز نے لوگوں کو دکھائی ہے وہ خود ایک لڑکی کی صورت میں ایک روڈ کنارے پر جاکر کھڑی ہو گئیں ، ایک رکشہ والا پاس کھڑا تھا اس نے انہیں کہا کہ دھوپ میں کھڑی ہو اندر رکشے میں آکر بیٹھ جائو ،

جس پر خاتون اینکر نے کہا کہ بھائی میں مجھے کہیں جانا نہیں ہے تو میں آپ کے رکشے میں کیوں اور کس لیے بیٹھوں ، اور جب خاتون اینکر نے اس سے کہا کہ اگر تمہاری ماں ، بہن یہاں کھڑی ہوتی تو کیا انہیں بھی ایسی آفر دیتے ؟ شرم آنی چاہیے تمہیں جس پر رکشہ والے نے بھاگنے میں آفیت سمجھی اور یہ جا اور وہ جا ، خاتون اینکر ابھی وہیں کھڑی تھیں کہ ایک موٹر سائیکل والے نے پاس آکر بائیک کو روکا اور کہا کہ آئیں جناب کہاں جانا ہے میں آپ کو کہیں بھی چھوڑ سکتا ہوں

میرے ساتھ چلیں کہیں کسی ریسٹورنٹ میں جا کر بیٹھیں گے اور کچھ کھائیں پیں گے ۔اس پر خاتون اینکر نے وہی سوال دہرایا اور کہ اگر تمہاری بہن یا ماں کھڑی ہوتی تو کیا انہیں بھی یہی آفر دیتے یا پھر کوئی اور دیتا تو کیا کرتے ، جس پر موٹر سائیکل والے نے معافی مانگنی شروع کر دی اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافی مانگنے لگا ،

دیکھا جائے تو پاکستان میں خواتین کہیں بھی ہوں انہیں لوگ اعجیب نظروں سے جب تک نہ دیکھیں انہیں سکون نہیں ملتا ۔ افسوس ہے ہم ایسے معاشرےجب یہ بات ہماری ماں ، بہن اور بیٹی پر آتی ہے تو ہم غصے سے پاگل ہو جاتے اور اس پاگل پن میں الگے کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے لیکن جب کسی کی ماں ، بہن اور بیٹی کی بات آتی ہے تو ہم شرم و حیا بے شرمی میں بدل جاتی ہے ۔ افسوس ہے افسوس ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں