ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیاگیا

تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے مرکزی سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے اور تین نومبر کو ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والے وزرا بے بس نظر آتے ہیں

اصل اختیارات لندن میں میاں نواز شریف کے پاس ہیں ۔ ہم لولے لنگڑے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں ۔ہماری مذاکراتی کمیٹی وزیر داخلہ احسن اقبال سے نیچے کسی سے ملاقات نہیں کرے گی ۔ 3 نومبر 2017 ء بروز جمعۃ المبارک آزاد کشمیر سمیت پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی تمام تجارتی مراکز بند رہیں گے،ہر تاجر اپنی دوکان بند کر کے اپنے ایمان اور ختم نبوت کی شان پر گواہی دے گا ۔وہ شہید ملت سیکرٹریٹ کے قریب دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے تمام چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ تجارتی مراکز بند کرکے عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ اپنی ایمانی وابستگی کا ثبوت دیں۔اس روز ہزاروں مساجد میں ختم نبوت دھرنا کی حمایت اور مطالبات کی منظوری کے لئے قرار دادیں منظور کی جائیں گی اور جمعہ کے بعداحتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی اور مختلف چوکوں اور شاہراؤں پر دھرنے دئیے جائیں گے ۔انہوں نے حکومت اور اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور زرداری کی عقیدہ ختم نبوت کے ایشوپر خاموشی کئی سوالات جنم دے رہی ہے ۔اپوزیشن نان ایشو زکو ایشو بنا رہی ہے مگر عقیدہ ختم نبوت جیسے حساس ایمانی مسئلے میں گونگے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔عاشقان رسول اللہﷺ آئندہ الیکشن حکومت اور اپوزیشن دونوں کا ووٹ کی پرچی سے محاسبہ کریں گے ۔انہوں نے کہا میرے پرسنل سیکرٹری مولانا ذوالفقار علی جلالی کو ختم نبوت دھرنا کے قریب سے صبح 10 بجے اغواکر لیاگیاہے اگر انہیں کچھ ہوا تو حکومت ذمہ دار ہو گی۔ا ملک بھر میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے سامنے دئیے گئے دھرنے کی حمایت میں دئیے جانے والے دھرنوں کے شرکاء اور قائدین کو خراج تحسین پیش کیا ۔

دریں اثنا ء تحریک لبیک یا رسول اللہﷺکے رہنما مولانا عبد الرشید اویسی نے تمام شرکاء دھرنا سے قائد تحریک ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کے لئے بیعت وفا لیدوسری جانب دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے غازی ملک ممتاز حسین قادری کے بھائی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے مرکزی رہنما ملک دلپذیر اعوان نے کہا کہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ملت اسلامیہ کے افق کا عظیم ستارہ ہے ۔(م ،ع)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں