اگر بیوی کی خواہش پو ری نہ ہو تو گھر ٹو ٹ جا تا ہے

میں سویرا سے شا دی کر نا چا ہتا ہو ں ماں نے بھی جواب دیا بیٹا تم کچھ بھی کرو اگر تم سویرا سے شادی کرو گےتو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔اور نہ تمہارا ہم سے کو ئی وا سطہ رہے گاتم یا تو میرا انتخاب کر لو یا پھر سو یرا کاواصف نے کہا ماں میں سویرا کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا ۔

بے شک مجھے آپ کی صورت میں اسکی قیمت چکانی پڑے۔اور پھر ما ں خاموش ہو گئی آخر وہ دن آ گیا وا صف کے بھا ئی اور بھا بھی اسکی شا دی میں پیش پیش ر ہے ماں کو تو جیسے صد مہ سا لگ گیا تھا ۔ مگر بیٹے کی خو شی میں پیچھے نہ ہٹی تھی اب تو واصف کے پا و ں ز مین پر نہ ٹکتے تھےسو یرا اسکے خوابو ں میں آنے وا لی وہی فلمی ہیرو ئن جیسی تھی جس کے وا صف خواب د یکھتا آ یا تھا آج اسکا خواب حقیقت بن گیا تھا تو بھلا وہ خوش کیوں نہ ہو تااب سویرا اور اسکی بہن نے کچھ زیادہ ہی بے ہو دگیا ں شروع کر دیں تھیں

گھر میں دن ہو یا رات ایک محفل سی سجی ر ہتی پار ٹیوں کے نا م پر گھر میں خوب ادھم مچا یا جا تاپو را محلہ انکی حر کتوں پر تو بہ تو بہ کر تامحلے میں ایک دو لو گو ں نے تو یہ بھی کہ د یا تھابھئی د یکھو یہ شر یفو ں کا محلہ ہےذرا خیال کیا کرو رات گئے تک نا چ گا نے کی آ وا زیں آتی ر ہتی ہیں۔مگر وا صف اور کا شف تو خود انکے رنگ میں ر نگ چکے تھے۔انھیں تو کچھ د کھا ئی د یتا تھا نہ سجھا ئی د یتا تھا بس اپنی بیو یوں کے پیچھے لگے ہو ئے تھے۔جیسا وہ کہتیں گھر میں و یسا ہی ہو تاآ خر جس مقصد کے لیئے انھوں نے وا صف اور کا شف سے شا دی کی تھی وہ با ت بھی انکے منہ پر آ ہی گئی دونو ں بہنو ں نے دو نو ں بھا ئیوں سے کہا کہ اپنی جا ئیداد اپنے با پ سے ما نگیں اور اس با ت پر اتنا اکسا یا کہ دو نو ں بھا ئی با پ کے سا منے کھڑے ہو گئے

جب با پ نے ان کے تیور د یکھے انکے روئیے اور انکی حر کا ت د یکھیںتو دو نو ں بھا ئیوں کو جا ئیداد سے عا ق کر د یا لہذا دو نو ں بھا ئیوں کی آ نکھیں کھلنی شروع ہو گئیںبا پ کے عا ق کر تے ہی دو نو ں بھا ئی اپنی بیو یوں کے پا س گئے اور ا نھیں سب بتا یاوہ سمجھ ر ہے تھے کہ انکی بیو یا ں انکا درد با ٹیں گیں مگر معا ملہ تو اس سے ا لٹ ہی نکلا دو نو ں بہنو ں کے تیور بدل گئے رو ئیے بدل گئے اب با ت بات پر ان کے در میان لڑائی جھگڑے ہو نے لگے اور آ خر با ت طلا ق تک آ پہنچی ما ں جو کہ دل کی مر یضہ تھیں صد مے کی و جہ سے وا صف کی شا دی کے بعد ہی انتقال کر چکی تھیںاب وہ ضد بھی کر تے تو کس سے کر تے با پ سخت طبیعت کا ما لک تھاوہ سب کچھ د یکھ ر ہا تھا مگر خا موش تھا ۔

صبر کر ر ہا تھااور صحیح و قت کا انتظار بھی اب وقت آ نے پر اسنے دو نو ں کی آ نکھیں کھو ل دی تھیں ۔جب طلا ق ما نگنے پر بھی وا صف اور کا شف نے طلا ق نہ دی تو دو نو ں بہنیں وا صف اور کا شف کو رسوا کر کے گھر سے بھا گ گئیںاور اپنے پرا نے عا شقوں کے ہاتھ خلع کے پیپر بھیج د یئے وہ ا صلح کے سا تھ آ ئے دو نو ں بھا ئیو ں کو خوب ما را پیٹاا ورخلع کے پیپرز پر سا ئن کروا کرلے گئےوہ دو نو ں بھا ئی خالی ہا تھ رہ گئے تھےنہ تو ما ں با پ کی ما نی اور نہ ہی انکے خواب پو ر ے ہو سکے اب ا نھیں ما ں کی کہی ہو ئی ایک ایک با ت سمجھ آ نے لگی تھی جو کہتی تھی بیٹا ہر چمکتی چیز سو نو نہیں ہو تی اور ایسی لڑ کیا ں گھر بسا نا نہیں جا نتیں اب وہ رہ رہ کر پچھتا ر ہے تھے اور کہہ ر ہے تھے کہ ہا ں وا قعی ما ں ٹھیک کہتی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں