بچے کی پیدائش : پاکستان میں بڑے آپریشن کے نام پر پرائیوٹ اسپتالوں میں معصوم لوگوں کے ساتھ کیا گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے ؟ پڑھیے ایک انتہائی معلوماتی فیچر

بی بی! تم بہت کمزور ہو، آٹھواں بچہ ہے، پیٹ میں پانی کی مقدار بھی زیادہ ہے اور بچے کی پوزیشن بھی سیدھی نہیں۔ تمہارا کیس نارمل نہیں ہو سکتا‘‘
’’ باجی! میرے سارے بچے نارمل ہوئے، سب سے چھوٹا 9 سال پہلے، پتہ بھی نہیں چلا، گھر میں منٹ بھی نہیں لگا اور میں فارغ ہو گئی‘‘

’’بی بی! وہ 9 سال پہلے کی بات ہے، اب تمہاری عمر39 سال ہے اور دو بچوں میں وقفہ بھی لمبا ہے۔ اتنی ساری وجوہات میں سے ایک دو بھی ہوں تب بھی آپریشن ہی ہونا چاہیے۔ دیکھو! تمہاری جلد کی رنگت بھی پیلی زرد ہے اور پیر بھی سوجے ہوئے ہیں، یہ ٹیسٹ لکھ کردیتی ہوں، چیک کراؤ، کل دکھا لینا‘‘ ’’باجی! آج تک میں نے کبھی خون ٹیسٹ نہیں کرایا، اب اس کی کیا ضرورت ہے؟ میری ساس کہتی ہے کھانے پینے کی طرح بچہ پیدا کرنا بھی عام سی بات ہے۔

میرا کچھ سانس زیادہ پھولنے لگا تھا تو آپ کے پاس آ گئی کہ کوئی سیرپ لکھ دیں گی۔ آپ تو مجھے لمبا کام بتا رہی ہیں، دائی تو پہلے ہی کہہ رہی تھی کہ ڈاکٹر کے پاس مت جاؤ، وہ تو آپریشن کے علاوہ کوئی دوسری بات ہی نہیں کرتیں۔ ‘‘ نامور خاتون کالم نگار ڈاکٹر رابعہ خرم درانی اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خاتون نے سلام کیا، گائناکالوجسٹ کے دیے ہوئے دوا کے سیمپل سمیٹے اور چلی گئی۔ پھر اس کی خبر تب ملی جب گھر میں کوشش کے باوجود ترچھے بچے

نے پیدا ہونے سے انکار کردیا تو سرکاری اسپتال میں بڑے آپریشن سے مردہ بچہ پیدا کروایا گیا۔ بڑھی ہوئی شوگر اور تیز بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ خون کی شدید کمی نے کیس پیچیدہ بنا دیا تھا۔ زچہ کی جان بمشکل بچائی جا سکی۔ دائی اماں تب بھی اصرار کررہی تھیں’ بچہ پیدا ہو جانا تھا، بس! لیڈی ڈاکٹر نے آپریشن جلدی کر دیا‘۔ یہ ایک عام تصویر ہے جو روز مرہ پریکٹس میں ہرگائناکالوجسٹ کے ہاں دیکھی جاسکتی ہے، اسے زچہ کا کیس کرنے سے پہلے اس کے عزیز و اقارب سے بحث کا کیس لڑنا پڑتا ہے۔

خصوصاً ایسے مریض جو بالکل آخری لمحے ایمرجنسی میں پہنچتے ہیں، پریشان، تھکے ہوئے، خوفزدہ اور غصے میں۔ انھیں اس لمحے ایک پروفیشنل، کام سے کام رکھنے والے ڈاکٹر سے زیادہ ایک ہمدرد مسیحا کی طلب ہوتی ہے جو کام کے ساتھ ساتھ نفسیات کی بھی ماہر ہو۔ ڈاکٹر بھی گوشت پوست کا انسان ہوتی ہے، اسے مریض کے فائدہ اور نقصان کو میڈیکل کے اصولوں کے ترازو میں تول کر مریض کے نارمل کیس یا آپریشن کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ بعض مریضوں کے عزیز اتنے سمجھدار ہوتے ہیں کہ انہیں آپریشن کی وجہ بتائی جائے تو وہ مان لیتے ہیں لیکن سب ایسا نہیں کرتے۔

چار بچے نارمل پیدا کرنے کے بعد پانچویں بچے کے لیے آپریشن کیوں کرنا پڑا؟ کیا ماں کی شوگر، بچے کا سائز اور وزن میں اضافہ سبب بنا؟ ماں کا تیز بلڈ پریشر زچہ اور بچہ کے لیے خطرناک تھا یا چار بیٹیوں کے بعد ملنے والا پہلا بیٹا اتنا قیمتی سمجھا گیا کہ اس کے لیے نارمل ڈلیوری کا خطرہ مول لینا مناسب نہ سمجھا گیا؟ ان تمام وجوہات کو سمجھنے کا درست وقت ایمرجنسی نہیں ہوتا، تب صرف عمل کا وقت ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بیشتر ڈاکٹرز’

’بچے کے دل کی دھڑکن خراب ہے ‘‘ اور ’’بچے کی جان خطرے میں ہے‘‘کہتی ہیں اور آپریشن کردیتی ہیں۔ اس وقت بھی مقصد ماں اور بچے کی بہتری ہوتا ہے نا کہ پیسہ۔ یہ غلط العام خیال اتائی نرسوں اوردائیوں کا پھیلایا ہوا ہے۔ماں اور بچے سے متعلق مذکورہ بالا وجوہات کے علاوہ بھی کچھ چیزیں اہم ہوتی ہیں۔ مثلاً بچے کی تھیلی میں پانی کی مقدار کم، بہت کم یا بہت زیادہ ہونا۔

فوڈ پائپ کا بچے کی گردن میں لپٹ جانا یا اس کا ٹوٹ یا اکھڑ جانا اور خون کا ضائع ہونا، اس کا بچہ کی پیدائش سے پہلے رحم سے باہر نکل آنا، ماں کے رحم اور بچے کی پوزیشن کا ایک دوسرے کی سیدھ میں نہ ہونا، دردوں کی حالت میں بچے کا غلط رخ پر گھوم جانا جس کی وجہ سے نارمل کے طور پر شروع کیا جانے والا کیس سیزیرین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ماں کی تکلیف کی شدت اور طوالت سے اقربا میں بے چینی ایک سبب ہوتی ہے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس ایمرجنسی میں گئے، اس سے پہلے ڈاکٹر اور مریض ایک دوسرے سے ناواقف تھے یا بہت کم ملاقات تھی، اعتبار و اعتماد کا فقدان ہر دو طرف تھا۔ مریض یا اقربا کا ڈاکٹر کی صلاحیت پر عدم اعتماد اور اس کا اظہار بھی سبب بنتا ہے۔ ایک اور دباؤ جو سیزیرین کی شرح بڑھنے کی وجہ ہے، میڈیا کا ہر جگہ پہنچ جانا اور ہمیشہ ڈاکٹر کے خلاف پارٹی بننا ہے۔ اس سے ڈاکٹر کو اپنی ساکھ خراب ہونے کا ڈر لگا رہتا ہے، اس لیے کسی برے نتیجے سے بچنے کے لیے بھی آپریشن کا فیصلہ نسبتاً جلد لے لیا جاتا ہے۔

نارمل وضع حمل کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

زچہ حمل سے پہلے ڈاکٹر سے اپنی صحت کی بابت مشورہ کرے، جب تک اس کی صحت اگلے حمل کو پروان چڑھانے کے لیے مناسب نہ ہو تب تک پرہیز کرے۔ عورت کی مثال ’کھیتی‘ سے دی جاتی ہے، جیسے زمین کو پہلی فصل کاٹنے اور دوسری فصل کا بیج بونے سے پہلے آرام کا وقفہ دیا جاتا ہے، بعینہ ماں کو بھی پہلے حمل اور رضاعت کے دورانیے کے بعد آرام کا وقفہ دیا جانا چاہیے۔ زمین کو سینچا جاتا ہے، اس کی مٹی میں پانی کی ترائی کی جاتی ہے، ضروری کھاد نمکیات، ادویات اور ہل چلا کر مٹی میں آکسیجن کا تناسب بہتر کر کے اسے نئی فصل کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

عورت کے لیے بھی اندازاً حمل کے9 ماہ اور رضاعت کے بعد تین سے چھ ماہ کا وقفہ ہوناچاہیے۔ یہ وقفہ کم و بیش تین، ساڑھے تین سال کا بنتا ہے۔ دو حمل کے دوران میں یہ وقفہ نہ صرف خاتون کی صحت کے لیے لازم ہے بلکہ وہ اس دوران میں اپنے پچھلے بچے کے حسین بچپن سے بھرپور لطف اندوز بھی ہوتی ہے۔ خاتون کی صحت اس حد تک بحال ہونے دیجیے جو اولین حمل سے پہلے والدین کے گھر میں تھی، اس کے خون اور کیلشیم کی کمی دور کیجیے، کسی قسم کی متعدی بیماری ہو تو اس کا علاج بھی کرالیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتاہے کہ گھر کی معیشت پر بھی ایک وقت میں مزید ایک ہی فرد کا بوجھ پڑتا ہے۔ اوپر تلے حمل اچھی بھلی تنخواہ کمانے والے مرد کو بھی کولہو کا بیل بنادیتے ہیں۔

وقفے کے بعد اگلا مرحلہ حمل کا ہے۔ جیسے ہی خاتون کو حمل کی خوشخبری ملے وہ اللہ کریم کا شکر ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے کسی مناسب، اچھی ساکھ کے حامل گائنی اسپتال میں اپنا نام درج کرائے، اسے ’بکنگ وزٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اس وزٹ میں خاتون کے ابتدائی ٹیسٹس سے اس کی ابتدائی صحت جانچی جاتی ہے۔ عموماً آغاز میں چھ ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔ 1۔ خون کا گروپ، 2۔ خون کا مکمل معائنہ، 3۔ خون میں شوگر کی مقدار، 4، 5۔ خون میں کالے یرقان کے جراثیم بی اور سی کے دو ٹیسٹ اور 6۔ پیشاب کا مکمل معائنہ۔ رپورٹس میں کسی بیماری کی تشخیص ہوجائے تو اس سے متعلقہ مزید ٹیسٹس کرائے جا سکتے ہیں مثلا شوگر کا شک پڑنے پر گلوکوز چیلنج ٹیسٹ یا کالے یرقان کا علم ہونے پر جگرکا ٹیسٹ۔

مغربی ممالک میں تھائی رائیڈ کے ٹیسٹ اس ابتدائی چیک اپ کا روٹین پروٹوکول ہیں، پاکستان میں یہ ایک مہنگا ٹیسٹ ہے اس لیے اگر خاندانی ہسٹری ہو یا خاتون آئیوڈین کی کمی والے علاقے سے تعلق رکھتی ہو تب یہ ٹیسٹ تجویزکیا جاتا ہے۔ آج کل تھیلیسیمیا پر بہت کام ہو رہا ہے، خون کے مکمل معائنے میں خون کے خلیے بہت زیادہ مقدار میں اور بے حد چھوٹے سائز میں نظر آئیں تو فولاد کی شدید ترین کمی یا تھیلیسیمیا کی تشخیص کے ٹیسٹ لازماً کرانے چاہئیں۔

ابتدائی ٹیسٹ اچھے آجائیں تو ڈاکٹر حاملہ خاتون کو فولک ایسڈ کی گولی تجویز کرے گی۔ دل خراب ہونے، متلی یا قے کی شکایت کے لیے ’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن‘ سے منظورشدہ کیٹیگری اے کی ادویات تجویز کی جا سکتی ہیں، تاہم یاد رکھیں کہ تقریباً50 فیصد خواتین کو حمل میں آنے والی قے بچپن سے سنی یا دیکھی دوران حمل متلی کی کہانیوں کے سبب آتی ہے باقی 50 فیصد کا سبب ہارمونز میں تبدیلی ہوتی ہے۔ خوراک کے شیڈول میں معمولی سی تبدیلی، لیموں اور سبز قہوے کے استعمال، چکنائی اور دیر سے ہضم ہونے والی خوراک سے احتراز سے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ رات کا کھانا ہلکا کردیجیے، سونے سے پہلے آدھ گھنٹے کی سیر جس میں ڈکار آ جانے سے صبح کی متلی سے نجات مل جاتی ہے۔ اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو آئینے کے سامنے کھڑی ہو جائیے، اپنا نام لے کر خود کو سمجھائیں کہ اب مجھے قے نہیں آئے گی، یہ سب میرے کنٹرول میں ہے، مجھے کوئی خوراک بری نہیں لگتی اور کسی خوشبو سے ابکائی نہیں آسکتی۔ ان شاء اللہ ان ہدایات پر اچھی طرح عمل پیرا ہونے والی خواتین کو دوا لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حمل کے آغاز میں پیٹ کے نچلے حصے میں درد کے بغیر کھنچاؤسا محسوس ہوگا، اس سے خوفزدہ مت ہوں کیونکہ بچہ اور بچہ دانی بڑے ہو رہے ہیں لیکن درد کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے ملیں۔

حمل کے آغاز میں پہلے دو الٹرا ساؤنڈ دو ہفتے کے فرق سے کیے جاتے ہیں تاکہ بچے کی نارمل گروتھ کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ عموماً پہلا الٹرا ساؤنڈ6 سے 7 ہفتے کی عمر پراور دوسرا 8 سے 9 ہفتے کی عمر پر کیا جاتا ہے۔ اس الٹرا ساؤنڈ کا مقصد حمل کی تشخیص کو کنفرم کرنا، حمل ٹھہرنے کی جگہ، ایک یا جڑواں یا زیادہ حمل کی تشخیص کرنا ہے۔ دوسرا سکین بچے کی گروتھ اور جڑواں بچے ہونے کی صورت میں ان دونوں کی گروتھ کے ایک دوسرے پر اثر کی تشخیص بھی کرتا ہے۔ کسی خاص صورتحال یعنی دو سے زیادہ بچے یا حمل کے قیمتی نہ ہونے کی صورت میں اگلے الٹرا ساؤنڈ کم از کم ایک ماہ کے وقفے سے کرانے چاہئیں۔

بہتر ہے کہ مریضہ اپنے اگلے وزٹ کی تاریخ اپنی ڈاکٹر سے طے کرکے ڈاکٹر چیمبر سے باہر نکلے تاکہ آپ کے ساتھ آپ کی ڈاکٹر بھی پابند ہو جائے۔ کوشش کیجیے کہ ڈاکٹر کا فون نمبر آپ کے پاس ہو اور ڈاکٹر کی فون میموری میں بھی آپ کا رابطہ نمبر آپ کے نام سے محفوظ ہو۔ مریضہ پر چند ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کہ ہر چھوٹے موٹے کام کے لیے ڈاکٹر کو فون نہ کریں، فون نمبر صرف ایمرجنسی میں استعمال کے لیے دیا جاتا ہے، رات تین بجے آپ کو بھوک لگ جائے تو ڈاکٹر کو فون کرکے کھانے کی اجازت طلب مت کریں۔ ڈاکٹر کا فون آپ کے پاس امانت ہے، اسے اپنے تک محدود رکھیے اور اپنے فون ہی سے ڈاکٹر کو فون ملائیے۔ آپ کا نمبر ڈاکٹر کے پاس آپ کے نام سے محفوظ ہوگا، وہ آپ کو پہچان کر فون اٹھائیں گی نظرانداز نہیں کریں گی۔ ظاہر ہے کہ اجنبی نمبر ہر کوئی نہیں اٹھاتا۔ مریضہ اپنے شوہر، بھائی یا دیور کے فون سے ڈاکٹر کا نمبر ملائے گی تو اس کال کے بعد ڈاکٹر کا وہ نمبر ڈیلیٹ کر دے گی۔

بعض خواتین کو کنفرم نہیں ہوتا کہ ان کی ڈلیوری سسرال میں ہو گی یا دوسرے شہر میں مقیم میکے میں؟ ایسی صورت میں دونوں شہروں میں ایک ایک ڈاکٹر سے رابطہ رکھیے اور اپنی ڈاکٹرز کو بھی اس بارے میں واضح بتایے۔ ایسی باتیں چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں، ڈاکٹر کو اتفاقاً پتا چلنے کی صورت میں بلاوجہ موڈ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ اپنے عمل میں درست ہیں، اس لیے ڈریے مت!

حمل کے ابتدائی تین ماہ میں سخت جسمانی مشقت، ازدواجی تعلقات، قبض اور غیرضروری سفر سے ہر ممکن پرہیز رکھیے۔ ہوائی سفر مکمل منع ہے۔ آپ فعال ضرور رہیں، چہل قدمی کریں لیکن گیلے کپڑوں سے بھری وزنی ٹوکری اٹھا کر چھت پر کپڑے پھیلانے مت جائیں۔ اس کے لیے گھر کے کسی فردکو مدد کے لیے پکاریے یا وزن کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیجیے۔

پانچویں ماہ میں 18 سے 22 ہفتے کے دوران ایک اسپیشلسٹ الٹرا ساؤنڈ کروایے۔ یہ فیٹل اناملی سکین (foetal anomaly scan) کہلاتا ہے اور بچے کی صحت، گروتھ کے ساتھ ساتھ بچے میں کسی ابنارمیلٹی کی تشخیص کرتا ہے۔ تھیلیسیمیا کیرئیر والدین کے بچے کا بھی یہاں اندازہ ہو جاتا ہے کہ بچہ یہ موروثی بیماری لے کر پیدا ہوگا یا صحت مند۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر آپ کے خون کے ٹیسٹس بھی کروا چکی ہوگی جس کے مطابق فولاد یا ملٹی وٹامنز تجویز کرے گی۔ بعض سنٹرز میں اس مرحلے پر شوگر چیلنج ٹیسٹ پہلی بار یا دوبارہ کیا جاتا ہے۔ دوران حمل ہونے والی شوگر کی میعاد وضع حمل ہے، اس لیے یہ مستقل بیماری نہیں۔ دورانِ حمل شوگر کا بہترین کنٹرول انسولین سے ہوتا ہے لیکن تازہ ترین ریسرچ نے ’میٹ فارمین‘ نامی دوا بھی محفوظ قرار دی ہے، اس لیے انسولین کے ٹیکے سے خوفزدہ مریض سکھ کا سانس لیں۔ ماہانہ چیک اپ میں ڈاکٹر بلڈ پریشر اور وزن چیک کرتی ہیں۔ وزن ضرورت سے زیادہ بڑھ رہا ہو تو ڈاکٹر سے بات کیجیے تاکہ اسے کنٹرول کیا جا سکے۔ نارمل حمل، عورت کو 12 سے 24 کلو تک وزن کا تحفہ دیتا ہے۔

دوران حمل ہائی بلڈپریشر انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے، یہ زچہ اور بچہ دونوں کے لیے برا ہے۔ حاملہ کا بلڈ پریشر بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ حمل سے ہے۔ بچے کی آنول میں موجود خون کی نالیوں میں خون کے بہاؤ کو ملنے والی رکاوٹ اور حمل کے ہارمونز اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے لیے نمک، انڈے، گوشت اور چکنائی سے مکمل پرہیز کے ساتھ دوا کا پابندی سے استعمال دونوں قیمتی جانوں کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اپنی روٹین میں سیر کو بھی ضرورشامل رکھیے۔ بلڈ پریشر کو 135/85 تک یا اس سے نیچے رہنا چاہیے۔ اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں پرہیز اور دوا میں سستی مت کیجیے۔ بلڈ پریشر کی زیادتی، پاؤں، چہرے یا تمام جسم پر سوجن کا آنا، وزن بڑھنا اور پیشاب میں ایلبیومن نامی پروٹین کا اخراج انتہائی خطرناک علامات ہیں۔ ایسی صورت میں خاتون کو اسپتال میں جلد داخل ہونا چاہیے تاکہ محفوظ ماحول میں بلڈ پریشر کنٹرول کیا جاسکے۔

اگر حاملہ بی پی کے بڑھنے سے غنودگی یا بیہوشی میں چلی گئی ہے یا اسے جھٹکے/ دورے کی کیفیت آ گئی ہے تو یہ شدید ایمرجنسی ہے جو ایک یا دونوں کی جان لے سکتی ہے۔ اگر وقت قریب ہو تو بچے کی پیدائش بھی کرائی جا سکتی ہے لیکن حمل کی مدت کم ہونے کی صورت میں ڈاکٹر انجکشنز کے ذریعے بی پی کنٹرول کریں گی، ساتھ ہی ساتھ بچے کے پھیپھڑوں کی میچورٹی کے انجکشن بھی دیے جائیں گے تاکہ شدید حالات میں وقت سے پہلے بچے کی پیدائش کرانا پڑ ہی جائے تو بھی بچے کے بچنے کے امکانات زیادہ ہوں۔ شوگر کی صورت میں بھی یہی اینابولک اسٹیرائیڈ انجکشن ماں کو دیا جاتا ہے تاکہ بچے کی جان کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ٹیٹنس یعنی تشنج سے بچاؤ کے کم از کم دو ٹیکے جو چار ہفتے کے فرق سے لگائے جاتے ہیں انہیں ہر صورت میں لگوائیں۔ یہ ٹیکے حکومتی ٹیمیں گھر گھر جا کر بالکل مفت بھی لگاتی ہیں۔ بہت مناسب ہے کہ ساتویں ماہ میں ڈاکٹر مریضہ کو وٹامن ڈی کا اوورل انجکشن بھی پلا دیں۔ یہ ماں اور بچے کی ہڈیوں کے لیے مفید ہے۔

مریضہ کا بلڈ گروپ اگر پازیٹو یا ماں اور باپ دونوں کا گروپ نیگیٹو ہے تو بہترین ہے لیکن نیگیٹو گروپ والی ماں جس کے شوہر کا بلڈ گروپ پازیٹو ہو، اس کے لیے چند احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ اگر پہلا حمل ہے اور 9 ماہ کے دوران حمل کے حوالے سے کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیاتو ڈلیوری کے فوراً بعد بچے کا بلڈ گروپ چیک کروایا جاتا ہے۔ اگر بچے کا گروپ باپ پر ہے یعنی پازیٹو، ایسی صورت میں زچہ کو اینٹی ڈی ٹیکے کی ضرورت پڑتی پے جس کی قیمت چند ہزار روپے ہے۔ یہ اسی والد سے پیدا ہونے والے اگلے پازیٹو گروپ کے بچے کی زندگی کو محفوظ بناتا ہے۔ یہ ٹیکہ زچگی کے بعد پہلے 72 گھنٹوں کے اندر اندر دیا جانا چاہیے۔ بچہ ضائع ہونے یا دوران حمل پیش آنے والے چند حادثات کی صورت میں یہ ٹیکے دوران حمل بھی دیے جاتے ہیں اور زچگی کے بعد بچے کا پازیٹو گروپ کنفرم کرکے دوبارہ بھی لگائے جاتے ہیں۔ اگر ایک ماں نے کسی وجہ سے ٹیکہ نہیں لگوایا اور وقت گزر گیا تو اگلے حمل میں تین سے چار دفعہ یہی ٹیکے لگانے پڑ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر سے بات کر لیجیے۔ یہ ٹیکے نہ صرف بچے کی زندگی بچاتے ہیں بلکہ اسے مختلف بلڈ گروپس کی وجہ سے پیدا ہونے والے پیدائشی نقائص سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

پیدائش کے فوراً بعد بچے کی شوگر چیک کی جاتی ہے جو ماں کو دی جانے والی شوگر کی ادویات کے زیر اثر کم ہوسکتی ہے، اسے فوراً گلوکوز سے کنٹرول کر لیا جاتا ہے۔ یہ ابتدائی شوگر ٹیسٹ بچے کی جان بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے، جب تک ماں کی ادویات کا اثر نومولود کے خون میں رہے گا( عموماً 48 سے 72 گھنٹے) بچے کی شوگر کم ہوتی ہے۔ ایسے بچے کا وزن بھی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے یہ بچہ دوسرے بچوں کی نسبت جلد بھوکا ہوجاتا ہے، اسے چھوٹے وقفوں کے بعد فیڈ کرایا جاناچاہیے۔

ہائی بلڈ پریشر والی خاتون کا بچہ کم وزنی اور نازک ہوتا ہے۔ عموماً 9 ماہ کا بچہ ایک سے ڈیڑھ کلو وزن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس قدر نازک بچہ زچگی کی تکلیف، درد اور گھٹن برداشت نہیں کرسکتا۔ نیز نارمل ڈلیوری میں دردیں سہنے کی صورت میں زچہ کا بی پی مزید بڑھ سکتا ہے جو دورے، بے ہوشی سے بڑھ کر دماغ یا جگر میں خون بہنے تک کا باعث بن سکتا ہے۔ شدید صورتحال میں ’ہیلپ(HELLP) سینڈروم‘بھی ہو سکتی ہے جس میں ہائیپرٹینشن( H) لیور انزائمز کی زیادتی (EL ) اور خون جمانے والے خلیوں کی تعداد میں کمی (L P )شامل ہے۔ یہ جان لیوا کیفیت ہے، شدید حالت میں جسم کی ہر شریان سے خون بہنے لگتا ہے اور جان بچانا ناممکن تو نہیں لیکن انتہائی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ کا بچہ فوراً کم وقت میں، بنا درد کے پیدا کرایا جانا چاہیے اس کے لیے بھی سیزیرین بہترین آپشن ہے۔ ہاں! بلڈ پریشر کی معمولی زیادتی جو دوا اور پرہیز سے کنٹرول ہو، اس صورت میں ایمرجنسی سیزیرین کی اجازت اور تیاری کے ساتھ نارمل ڈلیوری کی کوشش کی جانی چاہیے۔ یہی حکمت عملی نارمل شوگر کنٹرول والی ایسی خاتون جن کا بچہ زیادہ وزنی نہ ہو اس کے لیے بھی اپنائی جانی چاہیے۔

یاد رکھیے! پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے آپ کا جسم اس مرحلے سے کبھی نہیں گزرا۔ پہلے بچے کی دفعہ بڑے آپریشن کی کوئی واضح انڈیکیشن نہ ہونے کے باوجود نارمل ڈلیوری کے امکانات 50 فیصد ہوتے ہیں، کیونکہ 8 سے 12 گھنٹے کا زچگی کا یہ سخت مرحلہ کوئی بھی رخ اختیار کرسکتا ہے۔ ماں کی درد سہنے کی ہمت ختم ہو سکتی ہے، بچہ آکسیجن کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے یا رحم زچگی کی ادویات پر مطلوبہ رسپانڈ نہیں کرتی، ایسی صورت میں درد شروع نہیں ہوتا یا درد کے باوجود بچے کی پیدائش کا راستہ نہیں بنتا۔ ایسے میں بھی نارمل ڈلیوری کی کوشش کے باوجود آخری حل آپریشن ہی رہ جاتا ہے۔

وہ خواتین جن کا پہلا آپریشن کسی اتفاقیہ، غیر مستقل وجہ سے ہوا، مثلاً بچہ الٹا تھا یا آکسیجن کی کمی کا شکار ہوگیا تھا، ایسی صورت میں پہلے آپریشن کے باوجود اگر پہلی اور دوسری زچگی میں وقفہ کم از کم دو سال کا ہے اور پہلے آپریشن کے نشان میں کوئی تکلیف درد یا کھنچاؤ نہیں، بچہ بھی سیدھا ہے، باقی تمام معاملات بھی درست ہیں تو نارمل ڈلیوری کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے کیس میں بھی نارمل ڈلیوری کے چانسز پہلی ڈلیوری کی طرح 50 فیصد ہی ہیں لیکن اگر پہلا آپریشن کسی مستقل وجہ سے ہوا، مثلاً کولہے کی ہڈی تنگ ہے، ایسی صورت میں نارمل ڈلیوری کی کوشش غلط ہوگی۔ تنگ ہڈی کا مطلب چار بچے چار سیزیرین اور بس!

اگرکسی کے چار سیزیرین ہوگئے لیکن کوئی بچہ نہیں بچا یا بیٹیاں ہیں بیٹا نہیں، ایسی کسی خصوصی صورتحال میں خاتون کی جسمانی کیفیت، صحت، پرانے آپریشنز، کمزوری وغیرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اُنہیں پانچویں سیزیرین کا چانس دیا جاتا ہے۔ میڈیکل اصول کے مطابق چار سے زیادہ آپریشن منع ہیں۔ اگر دو، تین بچے ہیں تو بھی مزید آپریشن سے بچیں لیکن ایسی کسی خصوصی صورتحال میں پانچواں آپریشن کرانا پڑے تو کوشش کیجیے کہ ٹریٹری کئیر اسپتال یا سینئر گائناکالوجسٹ جو مشکل کیسز میں مہارت رکھتی ہو، ہی سے کیس کرائیں۔ گائناکالوجسٹ کو بھی چاہیے کہ اقربا کو اس کیس سے وابستہ خطرات سے بھی کماحقہ آگاہ کر دے۔ ایک ڈاکٹر جس نے آپ کی مریضہ کے پہلے چار کیس کیے ہیں، پانچویں کے لیے بھی وہی ڈاکٹر اچھا انتخاب ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں