صرف8 ہزار آمدن اور خوشحال گھرانہ، فاقےختم‘ دولت، عزت اور برکت کیسے ملی؟

میرے پاس ایک عمل ہے جو مجھے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام سے ملا۔ قارئین کی نذر کرتا ہوں:۔گزشتہ دنوں گھر میں بیٹھا ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھ رہا تھا کہ جس میں ایک نیوز چینل کی اینکرایک بڑے شہر کے روڈ پر مختلف راہ چلتی خواتین سےا ن کی معاشی حالت کے بارے میں پوچھ رہی تھی؟

وہ اینکر جس سے بھی پوچھتی کہ آپ کے معاشی حالات کیسے ہیں تو ہر کوئی مہنگائی کا رونا روہی تھی‘ ہر کسی کی زبان پر ایک جملہ تھا کہ آمدن کم ہے اخراجات زیادہ ہیں‘ گزارہ نہیں ہوتا۔اینکر ہر خاتون سے اس کے خاوند کی یا اس کی آمدن پوچھتی تو کوئی پچاس ہزار ، کوئی ستر ہزار ‘ کوئی تیس ہزار بتاتی مگر بعد میں زبان پر یہی الفاظ ہوتے کہ بچتا ہی کچھ نہیں‘ پندرہ تاریخ کے بعد ادھار اٹھانا پڑتا ہے‘ مہنگائی بہت زیادہ ہے۔

پھر اچانک اس اینکر نے ایک راہ چلتی خاتون کو روکا ‘ جب اس سے پوچھا کہ آپ شادی شدہ ہیں؟ اس نے ہاں میں جواب دیا‘ اینکر نے دوبارہ سوال کیا کہ آپ کے خاوند کی تنخواہ کتنی ہے تو خاتون نے پراعتماد لہجے میں بتایا کہ میرے خاوند کی تنخواہ 8ہزار ہے۔ خاتون کا جواب سن کر اینکر ایک دم چونکی اور دوبارہ پوچھا کہ واقعی آپ کے خاوند کی تنخواہ 8ہزار ہے تو خاتون نے دوبارہ کہا الحمدللہ میرے خاوند کی تنخواہ 8ہزار ہے۔

جب اینکر نے مزید پوچھا کہ گھر کرائے کا ہے یا اپنا؟ خاتون نے پھر جواب دیا کہ کرائے کا ہے اور گھر ایک کمرے پر محیط ہے اور کرایہ3500 روپے ہے۔اینکر نے پھر پوچھا کہ آپ کا گزارا کیسے ہوتا ہے؟ خاتون نے جواب میں بتایا: بہت خوشحال ہوں اور ہمارا ان پیسوں میں بہت اچھے سے گزارا ہورہا ہے۔اس کا جواب سن کر جہاں اینکر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا وہیں میں بھی پہلو بدلنے پر مجبور ہوگیا کہ

مہنگائی کے اس دور میں جہاں 90ہزار کمانے والےشدید پریشان ہیں وہیں یہ خاتون کہہ رہی ہیں کہ آمدن صرف 8ہزار ‘ کرائے کا گھر اورپھر بھی خوشحال اور برکت کی باتیں کررہی ہیں۔اینکر نے انتہائی پریشانی میں جلدی سے سوال کیا کہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟صرف 8ہزار اس میں سے بھی اگر 3500 نکال دیا جائے تو پیچھے صرف4500 روپے بچتے ہیں‘ ان 4500 روپوں میں بھی بجلی کا بل‘ پانی کا بل‘ گیس کا بل نکال دیا جائے تو بمشکل 3000 بھی نہ بچتے ہوں گے۔

آپ گھر کا خرچہ کیسے کرلیتی ہیں؟ خاتون نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب میرے شوہر مہینے کی پانچ تاریخ کو اپنی تنخواہ میرے ہاتھ پر لاکر رکھتے ہیں تو اول و آخر تین مرتبہ درودشریف اور تین مرتبہ آیۃ الکرسی پڑھ کر ان پیسوں پر دم کردیتی ہوں۔ اس کے بعد میں جب بھی پیسے کوئی چیز خریدنے کیلئے دیتی ہوں تو اِنَّا لِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ کر دیتی ہوں اور جب پیسے لیتی ہوں تو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھتی ہوں۔

اس اینکر کواب بھی یقین نہیں آرہا تھا وہ بار بار یہ پوچھ رہی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے اور وہ غریب عورت بڑی سادگی سے یہی بار بار کہہ رہی تھی کہ مجھے نہیں پتا بس میرا اللہ تعالیٰ کردیتا ہے‘ میرا خرچہ میرا اللہ تعالیٰ پورا کرتا رہتا ہے اور میں بس یہی پڑھتی رہتی ہوں۔ الحمدللہ میں خوشحال ہوں۔ خاتون نے مزید کہا کہ یہ عمل مجھے ہماری ایک بوڑھی ہمسائی نے بتایا تھا۔ جب سے یہ عمل ملا ہے مجھے خوشیاں ملی ہیں‘ فاقے ختم ہوئے ہیں۔

رکت اور عزت ملی ہے۔محترم حضرت حکیم صاحب! اس اینکر کو تو یقین نہ آرہا ہو شاید اور بھی دیکھنے والے ہوں گے جن کو یقین نہ آرہا ہو مگر مجھے یقین آگیا اورآپ جو الفاظ اکثر درس میں فرماتے ہیں کہ ’’اعمال سے پلنے‘ اعمال سے بچنے اور اعمال سے بننے کا یقین‘‘۔ ان الفاظ پر میرا یقین اور بھی مضبوط ہوگیا۔
اگلے مہینے’’فاقے ٹوٹے‘ دولت‘ عزت اور برکت کیسے ملی؟‘‘ کے حوالے سے ایک نیا سچا واقعہ اور ایک نیاآزمودہ عمل پڑھنا ہرگز نہ بھولیے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں